آغازِ کلام
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
اجلاس جہاد پر تھا جس کا خطبہ صدارت مولانا مجیب اللہ ندوی نے پڑھا۔ اس تین روزہ کانفرنس کے بعد ان مسلم نوجوانوں کا کوئی اقدام عملی سامنے نہیں آیا۔ پچھلے دو سال کے دوران مسلمانوں کے خلاف کئی نہایت سنگین واقعات پیش آئے۔ ۶ دسمبر ۹۲ کو اجودھیا کی باہری مسجد ڈھا دی گئی۔ جنوری ۱۹۹۳ میں بمبئی اور سورت میں شدید فساد ہوا۔ وغیرہ۔ مگر ان میں سے کسی بھی چیز کو روکنے کے لئے مسلم نوجوان کوئی اقدام نہ کرسکے۔ یہی موجودہ زمانہ کے تمام مسلمانوں کا ہے۔ وہ اقدام کی پوزیشن میں نہ ہونے کے باوجود ہمیشہ اقدام کی اصطلاحوں میں کیوں بولتے ہیں۔ اقدام کے علاوہ کوئی اور عمل ان کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا۔ اس کا سبب مسلم علماء اور دانشوروں کا ثنائی طرزِ فکر (dichotomous thinking) ہے۔ ان کے پاس سوچنے کے لئے دو ہی لفظ ہے۔ اقدام یا پسپائی۔ پسپائی چونکہ ذلت کا فعل ہے، اس لئے وہ پسپائی کا انتخاب چھوڑ کر اقدام کا انتخاب کئے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ مسلمان اس ثنائی طرزِ فکر سے ہٹایا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ ان دو کے علاوہ یہاں ایک تھرڈ آپشن بھی ہے جو زیادہ مفید اور پوری طرح قابلِ عمل ہے اور وہ ہے تیاری کے میدان میں اپنے آپ کو لے جانا اور اپنے آپ کو دینی، اخلاقی، سماجی، تعلیمی، اقتصادی اعتبار سے مستحکم کرنا۔ اس تیاری کے بعد ان کے مسائل یا تو اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔ اور اگر دوسروں کے خلاف کسی اقدام کی ضرورت پیش آئی تو مسلمان زیادہ مؤثر اقدام کی پوزیشن میں ہوں گے۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۳ سڑکوں پر جگہ جگہ ٹرائک کے قاعدے سے جلی حرفوں میں لکھے ہوئے رہتے ہیں۔ میں دہلی کی ایک سڑک سے گاڑی پر گزر رہا تھا۔ ایک مقام پر سڑک کے کنارے ایک بڑے سے بورڈ پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: Better late than never. Drive carefully. یعنی تاخیر سے پہنچنا اس سے بہتر ہے کہ تم کبھی نہ پہنچو۔ اپنی گاڑی احتیاط کے ساتھ چلاؤ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader