آغازِ کلام
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
سڑک پر محفوظ سفر کا یہی اصول زندگی کے محفوظ سفر کے لئے بھی ہے۔ موجودہ زمانہ کی اکثر اسلامی تحریکیں اسی کا شکار ہوئی ہیں۔ جلد حکومت حاصل کرنے کے لئے یہ تحریکیں عملی سیاست میں قبل از وقت کود پڑیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو کچھ ملا ہوا تھا وہ بھی کھو گیا اور سیاسی اقتدار کی منزل دور سے دور تر ہو گئی۔ ۲۸ اکتوبر ۱۹۹۳ء جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے دو ہند و استاد ملاقات کے لئے آئے اور دیر تک ہمارے دفتر میں رہے۔ میں نے چائے کے لئے پوچھا تو انھوں نے منع کر دیا اور کہا کہ ہم لوگ چائے نہیں پیتے ہیں۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ پیغمبر اسلام کی ایک حدیث میں ہے کہ من زار رجلا ولم يذق منه شيئا فكانه زار ميتاً (جو شخص کسی سے ملا اور اس سے اس نے کچھ چکھا نہیں تو گویا کہ وہ مردہ سے ملا)، میں نے کہا کہ اس لئے مجھے آپ کو کچھ چکھانا ہے۔ اس کے بعد گھر کے اندر گیا۔ اس وقت گھر میں سنگھاڑے کی گھگنی پکائی گئی تھی۔ میں ایک پلیٹ میں اس کو لے آیا اور ان کے سامنے پیش کیا۔ انھوں نے بہت شوق سے کھایا اور بہت خوش ہوئے۔ مذکورہ حدیث کا بھی ان پر بہت اثر ہوا۔ اس کے بعد میں نے سوچا کہ ماضی میں غالباً اسی طرح اسلام پھیلا۔ نارمل فضا میں اگر مسلمان اور غیر مسلمان آپس میں مل رہے ہوں تو اسی طرح فطری طور پر اسلام کے مختلف پہلو غیر مسلموں کے سامنے آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسلام کو اختیار کر لیتے ہیں۔ اسلام کی اشاعت کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ باہمی کشیدگی ختم کر دی جائے تاکہ معتدل ماحول میں ملنا جلنا شروع ہو جائے ۔ اس کے بعد اپنے آپ اسلام کی تبلیغ ہونے لگے گی۔ ۲۹ اکتوبر ۱۹۹۳ء ڈاکٹر مہیش شرما کا تعلق آر ایس ایس سے ہے۔ وہ ہندی ماہنامہ منقن کے ایڈیٹر ہیں۔ بات چیت کے دوران انھوں نے خود ہی مولانا علی میاں صاحب کا ذکر کیا۔ اور کہا : میں نے آپ کو اور علی میاں کو دونوں ہی کو پڑھا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ علی میاں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور آپ اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے مجھ سے کچھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader