Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیثیں پوچھیں اور ان کا ترجمہ ہندی میں لکھ کر لے گئے کشمیر کے جنگجو درگاہ حضرت بل (سرینگر) میں ہتھیار لے کر جمع ہوگئے۔ یہ واقعہ ۱۵ اکتوبر کو ہوا۔ اس کے بعد ۷ اکتوبر کو میں نے ٹی وی پر ایک بیان دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مسجد عبادت کے لئے ہے۔ اس میں ہتھیار جمع کرنا ناغیر اسلامی فعل ہے۔ اس پر جنگجو لوگ بگڑ گئے۔ آج ۳۰ اکتوبر کو انھوں نے ایک اخباری بیان کے ذریعہ اعلان کیا کہ مولانا وحید الدین خاں کو جو شخص قتل کرے گا اس کو ہم پانچ لاکھ روپیہ انعام دیں گے۔ مزید انھوں نے کہا کہ ہم نے ایک سرینگر سے دہلی بھیج دیا ہے جس کا کام یہ ہے کہ وہ ان کو قتل کردے۔ death squad یہ اعلان کشمیر کی اخوان المسلمون نے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس تنظیم کو اپنا نام اعدا المسلمین (مسلمانوں کے دشمن) رکھنا چاہئے۔ کیوں کہ وہ عداوت کا کام کر رہے ہیں نہ کہ اخوت کا۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۹۳ء ویرپن پیدائشی طور پر نہایت بہادر نوجوان تھا۔ اس کے بعد وہ ڈاکو بن گیا۔ ڈاکو بازی میں اس نے بڑے بڑے واقعات کئے۔ انگریزی پندرہ روزہ انڈیا ٹوڈے میں اس کے بارہ میں تفصیلات شائع ہوئی تھیں۔ اس کے بعد انڈیا ٹوڈے کے شمارہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۹۳ میں اس رپورٹ پر کچھ خطوط چھپے ہیں۔ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ یہ ملک کے لئے بہت زیادہ مفید ہوتا اگر ویرپن نے اپنی بہادری کو عوامی فلاح کے لئے خرچ کیا ہوتا: It would have benefited the country far more if Veerappan had displayed his bravery for the public good. ہمیشہ اعلیٰ صلاحیت کے لوگ ہی دادا اور ڈاکو بنتے ہیں۔ یہ لوگ اگر تعمیری میدان میں کام کریں تو بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔ یکم نومبر ۱۹۹۳ ایک مسلم لیڈر کا ٹیلیفون آیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ کشمیر کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ایسا آپ کیوں کرتے ہیں۔ جب کہ یہ واقعہ کے بالکل خلاف ہے۔ میں نے کہا کہ پہلے آپ یہ دیکھئے کہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page