Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اپنا سر ٹکرانا ہے۔ جو آدمی چٹان سے ٹکرائے گا وہ خود اپنا سر توڑے گا۔ وہ چٹان کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ آپ لوگ کشمیر کے معاملے کو آئیڈیلیزم کے نقطۂ نظر سے دیکھ رہے ہیں اور میں اس کو عملی نقطۂ نظر سے دیکھ رہا ہوں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ انڈیا سے لڑ رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ آپ تاریخ سے لڑ رہے ہیں۔ یہ ہے اصل فرق جو میرے اور آپ کے درمیان پایا جاتا ہے۔ ۲ نومبر ۱۹۹۳ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر پروفیسر مرلی منوہر جوشی آج ہمارے سنٹر میں آئے۔ ان سے تقریباً ایک گھنٹہ بات ہوئی۔ ان کے ساتھ اور بھی کئی ہندو بھائی تھے۔ آخر میں میں نے کہا کہ اب دیش میں نئے خون کی ضرورت ہے اور مجھے لگتا ہے کہ وہ نیا خون آپ لوگ بننے والے ہیں۔ میری آپ کو صرف ایک نصیحت ہے۔ آجکل جو حالات ہیں اس سے لگتا ہے کہ پہلی بار آپ لوگ ہندو ووٹ سے پاور میں آئیں گے۔ مگر جب پاور میں آجائیں تو آپ کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ دوسری بار آپ ہندو اور مسلمان دونوں کے ووٹ سے پاور میں آئیں۔ اگر ایسا نہیں ہواتو دیش تباہ ہو جائے گا۔ ۳ نومبر ۱۹۹۳ ۳۰ اکتوبر کو موت کی دھمکی کے بعد میرے رہائشی مکان (نئی دہلی) پر راؤنڈ دی کلاک سیکورٹی لگی ہوئی ہے۔ دھمکی کی خبر معلوم ہوتے ہی مسٹر ریشمی کانت میرے یہاں آئے اور مجھ کو اپنے مکان پر لے گئے۔ وہاں انھوں نے ہوم منسٹری سے ٹیلیفون پر کنیکٹ کیا۔ اور فوراً سیکیورٹی لگانے کے لئے کہا۔ جب خبر ملی کہ میرے مکان پر سیکیورٹی کے مسلح جوان آ چکے ہیں تو اپنی گاڑی سے مجھے واپس بھیجا۔ تاہم میں سوچتا ہوں کہ کوئی سیکیورٹی کسی کی حفاظت کے لئے کافی نہیں ہو سکتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page