Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی کے vulnerable points اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ سیکیورٹی کا کوئی بھی نظام اُن سب کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ عالم الغیب خدا کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ کسی فرد یا قوم کی حفاظت کر سکے۔ ۴ اکتوبر ۱۹۹۳ء کلکتہ کے ایک بڑے مسلم ڈاکٹر ملاقات کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ کلکتہ کے کئی مسلمانوں سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ جیوتی باسو (کیونسٹ) کی حکومت کی تعریف کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ صحیح ہے کہ جیوتی باسو کی حکومت کے زمانہ میں کلکتہ میں کوئی فرقه دارانہ فساد نہیں ہوا۔ مگر یہی کیونسٹ تو ہیں جو سوویت یونین کے دور میں سنٹرل ایشیا میں کیا کیا ظلم کر چکے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ وہاں کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ سروسوں میں بنگال میں مسلمانوں کے ساتھ وہ امتیاز نہیں برتا جاتا جو دوسری شمالی ریاستوں میں موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ اصولی اعتبار سے دیکھیے تو صرف امتیاز نہ ہونا کافی نہیں۔ اس وقت مسلمان تعلیم وغیرہ میں دوسرے فرقوں سے پیچھے ہوگئے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ خصوصی رعایت کر کے انھیں آگے بڑھایا جائے۔ مجھے ان کا یہ طرزِ فکر بہت عجیب معلوم ہوا۔ جن لوگوں میں یہ سوچ پائی جائے وہ کبھی شکر کے احساس کا تجربہ نہیں کرسکتے۔ ۵ نومبر ۱۹۹۳ء کشمیر کے جنگجوؤں نے ۳۰ اکتوبر کو میرے قتل کا اعلان کیا تھا۔ آج اس اعلان پر ایک ہفتہ پورا ہو گیا۔ مگر اب تک کسی بھی قابلِ ذکر مسلمان کی طرف سے اس کی مذمت نہیں کی گئی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت، ملی کونسل، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، جمعیۃ اہل حدیث، اور دوسری درجنوں مسلم تنظیموں اور مسلم اداروں میں سے کسی نے بھی اس انتہائی غیر اسلامی فعل کے خلاف مذمتی بیان جاری نہیں کیا۔ حالانکہ یہ خبر تمام اخباروں میں چھپ کر ہر ایک کو معلوم ہو چکی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page