آغازِ کلام
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر و اعتراض کی پالیسی کو ایک اصول کے طور پر اختیار کیا جائے تو وہ بہادری ہے مگر جب صبر و اعتراض کو دباؤ کے تحت اختیار کیا جائے تو یہ بز دلی ہوگی۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو ایودھیا کی بابری مسجد ڈھائی گئی۔ اس کے بعد تقریباً دو ہفتہ تک بمبئی اور ملک کے دوسرے شہروں میں ہولناک فسادات ہوئے۔ یہ بلاشبہ اندوہناک تھا۔ مگر اس شر میں ایک خیر کا پہلو نکل آیا۔ وہ یہ کہ ۱۹۴۷ء کے بعد پہلی بار نام نہاد مسلم لیڈر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ذاتی مشاہدہ اور اخباری رپورٹ، دونوں میں مجھے نظر آیا کہ مسلم عوام ان لیڈروں سے کھلم کھلا بیزاری کا اظہار کر رہے ہیں۔ ٹائس آف انڈیا (۲۶ جنوری) میں مشہور صحافی دلیپ پیڈ گاؤکر (Dilip Padgaonkar) موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: The most significant change following the developments in Ayodhya and Bombay seems to be taking place in the Muslim community. For the very first time since Independence younger Muslims with a liberal outlook have come out in the open fearlessly to denounce leaders of their own community (p. 12) ایودھیا اور بمبئی کے واقعات کے بعد جو سب سے زیادہ با معنی تبدیلی آئی ہے وہ مسلم فرقہ میں پیدا ہونے والی تبدیلی ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مسلم نوجوان آزادانہ طور پر سوچ رہے ہیں۔ وہ کھل کر اور بلا خوف اپنی کمیونٹی کے لیڈروں کی مذمت کر رہے ہیں۔ ۲۷ جنوری ۱۹۹۳ء ایک صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ وہ کسی سرکاری دفتر میں سروس کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دفتر میں ہمارے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں کیا کیا جائے۔ میں نے کہا کہ زندگی نام ہے نا انصافی کو برداشت کرنے کا۔ اگر آپ موجودہ دفتروں کو الٹ پلٹ ڈالیں اور اس کے بعد ایک نیا دفتری نظام بنائیں تب بھی وہاں کسی نہ کسی طرح کی نا انصافی موجود ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ پھر کیا کیا جائے ۔ میں نے کہا کہ نہ صرف دفتر کے لئے بلکہ پوری زندگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader