آغازِ کلام
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا محافظ ہے۔ تاہم اس واقعے نے تمام علماء اور تمام رہنماؤں اور دانشوروں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ہر ایک اسلام کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے مگر کسی کو بھی حقیقی اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ۶ نومبر ۱۹۹۳ قاہرہ کی جامعۃ الازہر کو فاطمیوں نے ۹۷۰ء میں قائم کیا تھا۔ مسلم سلاطین اور حکمراں اس کا نہایت احترام کرتے تھے۔ دینی امور میں شیخ الازہر کو پوری خود مختاری حاصل تھی ۔ شاہ فاروق تک اس کی یہ حالت باقی رہی۔ مگر مصر میں فوجی انقلاب کے بعد یہ صورتحال بدل گئی۔ مصر کے فوجی صدر جمال عبد الناصر نے ۱۹۵۸ میں تطویر الازہر کے نام سے ایک قانون وضع کیا۔ اس کے تحت ازہر میں کچھ جدید شعبوں کا اور عمارتوں کا اضافہ تو ہو امگر شیخ الازہر کی قدیم حیثیت بالکل ختم ہوگئی۔ اب شیخ الازہر کا عہدہ حکومت کے تابع ہوگیا۔ جبکہ اس سے پہلے وہ ایک آزاد شعبہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس تبدیلی کی ذمہ داری لوگ جمال عبد الناصر پر ڈالتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک الاخوان المسلمون کے لیڈر مکمل طور پر اس میں شریک ہیں۔ کیوں کہ مصر کے فوجی انقلاب میں وہ پوری طرح فوجی افسروں کے ساتھ شامل تھے۔ یہ اخوانی لیڈروں کی بے بصیرتی کا ثبوت ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ مصر کے شاہی نظام کو ختم کرکے وہاں اسلام کا نظام لا رہے ہیں۔ حالانکہ باعتبار حقیقت وہ پہلے سے بھی زیادہ برانظام آنے کا راستہ صاف کر رہے تھے۔ ۷ نومبر ۱۹۹۳ پونہ کے عبدالکریم عطار صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ ان سے دعوت کے موضوع پر بات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ میں پونہ کے ہندوؤں کے درمیان رہتا ہوں۔ انھیں کے ساتھ میرا سارا کاروبار ہے۔ میں نے پایا کہ ہندوؤں کو اسلام سے نفرت نہیں، انھیں مسلمانوں سے نفرت ہے ۔ اس لئے اسلام کی اشاعت کے لئے اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کی اصلاح کی جائے۔ مسلمانوں کی اصلاح کے بعد ہندوؤں کی دوری اسلام سے ختم ہو جائے گی۔ یہ ایک بہت بڑی بھول ہے جس میں سو سال سے تمام مسلمان مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader