آغازِ کلام
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی دعوت کا کام رکا ہوا پڑا ہے۔ اسی نظریہ کے تحت تبلیغی جماعت چلائی گئی۔ مگر ۸۰ سال کی جدوجہد کے باوجود غیر مسلموں میں دعوتی کام جاری نہ ہو سکا۔ میں سمجھتا ہوں کہ دعوتی کام کو مسلمانوں کی اصلاح پر موقوف کرنے کے بجائے زیادہ درست بات یہ ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ اسلام اور مسلمان ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ اسلام اور مسلمان دونوں interchangeable terms نہیں ہیں۔ اسلام کوئی نسلی مذہب نہیں۔ وہی مسلمان ہے جو واقعی معنوں میں اسلام کی دعوت پر چلے۔ اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے زیادہ بہتر طور پر دعوت کا کام کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بجائے اگر مسلمانوں کی اصلاح پر دعوت کے کام کو منحصر کیا گیا تو کبھی بھی دعوت کا کام انجام نہیں پاسکتا۔ نہ کبھی مسلمانوں کی اصلاح ہوگی اور نہ کبھی دعوت کا کام شروع ہو سکے گا۔ کیوں کہ حدیث سے ثابت ہے کہ قرون ثلاثہ کے بعد جب مسلمانوں میں بگاڑ آئے گا تو وہ بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ ۸ نومبر ۱۹۹۳ ڈاکٹر ہیپش شرما کا ٹیلیفون آیا۔ انھوں نے کہا کہ اس بار میں نے آپ کے اوپر اپنا مضمون لکھا ہے۔ وہ ہر ہفتہ ہندی اخبار میں ایک کالم لکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنا یہ ہندی مضمون پڑھ کر سنایا۔ اس میں ایک جملہ یہ بھی تھا کہ: مولانا وحید الدین خاں کہتے ہیں کہ اسلام دعوت ہے نہ کہ عداوت۔ اس طرح کے تجربات سے میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کی قومی غلطیوں کو اگر مان لیا جائے تو ہند و کا دل فوراً نرم ہو جاتا ہے اور وہ ہر بات سننے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ واضح ہو کہ ڈاکٹر ہیپش شرما مکمل طور پر آرایس ایس کے آدمی ہیں۔ ۹ نومبر ۱۹۹۳ ایک صاحب سے گفت گو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ابراہیم بت شکن اور محمود بت شکن بظاہر دونوں یکساں الفاظ ہیں۔ مگر دونوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک کو دوسرے سے کوئی نسبت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader