آغازِ کلام
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابراہیم نے بت شکنی سے اپنے عمل کا آغاز نہیں کیا۔ بلکہ دعوت توحید سے اپنا کام شروع کیا۔ دعوت کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آپ نے قوم کے اوپر حجت تمام کر دی۔ اس کے باوجود قوم نے انکار کیا اور آپ کی دشمن بن گئی۔ اس کے بعد آپ نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ ہجرت سے پہلے آخری اتمام حجت کے لئے آپ نے ان کے بت خانہ کے ایک بت کو توڑ دیا۔ اس کے برعکس محمود غزنوی نے کوئی دعوتی کام نہیں کیا۔ وہ اپنی فوج لے کر سومنات میں داخل ہوا اور وہاں کے مندر میں داخل ہو کر بت کو توڑ ڈالا۔ مزید یہ کہ اس بت شکنی کا کوئی بھی تعلق دین سے نہیں تھا۔ وہ صرف اس لئے آیا تھا کہ مندر کا سونا لوٹے اس کو معلوم ہو اتھاکہ سومنات کے مندر میں بہت بڑا بت ہے جس کے اندر سونا بھرا ہوا ہے۔ وہ اسی سونے کے لئے آیا تھا۔ اس نے بت کو توڑا اس کا سونا لوٹا اور پھر واپس چلا گیا۔ ۱۰ نومبر ۱۹۹۳ مولانا بختیاری دارالعلوم حیدر آباد میں استاد ہیں۔ آج وہ ہمارے دفتر میں آئے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے دار العلوم کے ایک استاد میرے خلاف ایک تنقیدی مضمون لکھ رہے ہیں۔ اس میں وہ میرے تفردات کا جائزہ لیں گے۔ میں نے کہا کہ میرے خلاف یہ ایک بے بنیاد پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ میرے کوئی تفردات نہیں۔ عقیدہ اور مسلک ہر اعتبار سے میں علما سلف کے طریقہ پر ہوں۔ کسی بھی معاملہ میں میں نے تفرد نہیں کیا ہے۔ میرا واحد اختلاف طریقہ کار کے بارہ میں ہے۔ میرا کہنا ہے کہ دورِ جدید میں ہمارے علما اور رہمناؤں نے اسلام کے احیا کے لئے جو طریقِ کار اختیار کیا وہ بحیثیت طریقہ کے درست نہ تھا، اسی لئے وہ بے نتیجہ رہا۔ اور طریقِ کار یا تدبیرِ عمل کے معاملہ میں اختلاف تو ہر ایک سے کیا جا سکتا ہے حتی کہ بدر کے سفر میں خود نبی سے کیا گیا۔ جب کہ ایک صحابی نے کہا تھا کہ لیس هذا بمنزل . تفرد اس سے بھی بالکل مختلف چیز ہے مثلاً طاحسین (۱۹-۱۹۸۹ء) نے اپنی کتاب الشعر الجاھلی میں دعویٰ کیا ہے کہ کلام جاہلیت کوئی چیز نہیں۔ جن عربی اشعار کو دور جاہلیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader