آغازِ کلام
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اشعار کہا جاتا ہے وہ سب موضوع اشعار ہیں۔ یہ ایک تفرد ہے، کیوں کہ وہ تمام اہل علم کی رائے کے خلاف محض ایک شخصی رائے ہے۔ اسی طرح سید ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج و رج کرنا جائز ہے (تفہیم القرآن ۵ / ۹، ۸۰)۔ یہ واضح طور پر تفرد ہے۔ کیوں کہ تمام علماءِ اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف خروج جائز نہیں، خواہ بظاہر وہ ظالم کیوں نہ ہو۔ میں نے کبھی کسی دینی معاملہ میں اس قسم کا تفرد اختیار نہیں کیا ہے۔ ۱۱ نومبر ۱۹۹۳ صبح اٹھ کر اپنے کمرہ کے سامنے والے بار جہ پر ٹہل رہا تھا کہ ایک تاثر ذہن میں آیا۔ میں نے سوچا کہ موجودہ مسلمانوں میں میرے مخالفین کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہزاروں کی گنتی میں بھی شاید ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مخالفین ہندوستان کے اندر بھی ہیں اور ہندوستان کے باہر بھی۔ مگر ان کی مخالفت کسی اصول پر مبنی نہیں، صرف اندھے تعصب پر مبنی ہے۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ اس لئے میرا مخالف ہے کہ وہ اپنے بڑوں کے خلاف کلمۂ حق سننے کے لئے تیار نہیں۔ دوسرا طبقہ اس لئے میرا مخالف ہے کہ وہ غیر قوموں کے حق میں کوئی کلمہ خیر سننے کے لئے تیار نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں پیدا کیا یہاں مجھے کام کرنے کا پور موقع مل رہا ہے۔ اگر میں کسی مسلم ملک میں ہوتا تو یقینی طور پر یہ بگڑے ہوئے مسلمان یا تو مجھے قتل کر دیتے، یا کم ازکم وہ میرے خلاف ایسے حالات پیدا کرتے کہ میرے لئے آزادانہ طور پر کام کرنا نا ہی ناممکن ہو جاتا۔ ۱۲ نومبر ۱۹۹۳ آج کل تمام دنیا کے مسلم اخبارات اور مسلم مطبوعات اس فریاد سے بھرے ہوتے ہیں کہ ساری قومیں اسلام کی دشمن ہو گئی ہیں اور متحد ہو کر مسلمانوں کو ھلاک کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ یہ ایک لغویات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس صورت حال کی ذمہ داری تمام تر موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین پر ہے۔ انہوں نے اسلام کی تعبیر اس طرح کی کہ پولٹیکل ریوولیوشن اسلام کا نشانہ بن گیا۔ چنانچہ مسلمان ہر جگہ کی حکومتوں سے کسی نہ کسی طور پر لڑنے لگے تاکہ اقتدار پر قبضہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader