Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

کر کے وہاں اسلامی حکومت قائم کرسکیں۔ مسلمانوں کے اسی طرز عمل کا یہ نتیجہ ہو اکہر جگہ ان کو مارا جانے لگا۔ سیاسی انقلاب اسلام کا نشانہ نہیں ۔ اسلام کا نشانہ متقیانہ انقلاب ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں فکری انقلاب ، روحانی انقلاب، اخلاقی انقلاب کہا جاسکتا ہے۔ متقیانہ انقلاب کی جدوجہد میں ساری محنت فرد پر کی جاتی ہے۔ جب کہ سیاسی انقلاب کی تحریک میں فوراً حکمراں طبقہ نشانہ بن جاتا ہے اور اس طرح غیر ضروری طور پر مسلمانوں کا ٹکراؤ حکمرانوں سے ہونے لگتا ہے۔ ۱۳ نومبر ۱۹۹۳ بیسویں صدی کے نصف اول میں تمام مسلم رہنما یہ فریاد کرتے رہے کہ انگریزوں کی پالیسی یہ ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو۔ اب صدی کے نصف ثانی میں تمام مسلم رہنما یہی شکایت امریکہ کے بارہ میں کر رہے ہیں۔ ان رہنماؤں نے یہ تو جانا کہ انگریزوں اور امریکیوں کی یہ پالیسی ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو۔ مگر انھوں نے یہ نہیں جانا کہ یہاں ایک اور پالیسی ہے جو مذکورہ سازش کا بہترین توڑ ہے۔ اور وہ پالیسی یہ ہے کہ : نہ لڑ و اور حکومت نہ کرنے دو۔ ۱۴ نومبر ۱۹۹۳ مشہور عرب مصنف محمد الغزالی کی ایک کتاب " کفاح دین" ہے ۔ ۳۱۰ صفحہ کی یہ کتاب دار البیان ،کویت سے ۱۳۸۹ھ (۱۹۶۹ء) میں چھپی ہے۔ اس کتاب کے باب بیوت العبادة میں قاہرہ کی مسجدوں کا ذکر ہے۔ اس کے صفحہ ۱۶۸ - ۱۶۷ پر بتایا گیا ہے کہ تعمیل القاهره (قاہرہ کو خوبصورت بنانے) کی اسکیم کے تحت چودہ مسجدیں ڈھادی گئیں (فان هذ التجميل اقتضى هدم اربعة عشر مسجد آ لوزارة الاوقاف) ۱۶۷ کتاب میں ان چودہ مسجدوں کا نام اور مفتام تحریر کیا گیا ہے۔ ہدم مساجد کے واقعات ہر مسلم ملک میں پیش آتے ہیں۔ مثلاً پاکستان میں، سعودی عرب میں، الجزائر میں ، اور دوسرے مسلم ملکوں میں ۔ مگر ہمارے علما ء نے کبھی یہ تحریک نہیں چلائی کہ ان ڈھائی ہوئی مسجدوں کو دوبارہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page