آغازِ کلام
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
بنایا جائے۔ حتیٰ کہ خود ہندوستان میں ، ۱۹۴۷ کی شورش میں ہزاروں مسجدیں ڈھائی گئیں۔ ان کے بارہ میں بھی ان علماء نے یہ مطالبا تی مہم شروع نہیں کی کہ ان مسجودں کو اسی مقام پر دوبارہ بنایا جائے ۔ البتہ اجودھیا کی بابری مسجد کے معاملہ میں ہر آدمی یہی مطالبہ کر رہا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ تضاد جس میں ہندوستان کے تمام علماء اور رہمنا مبتلا ہیں۔ ان نام نہاد رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بابری مسجد مسلمانوں کے وجود کی علامت ہے۔ یہ ایک لغو بات ہے۔ بابری مسجد اگر فی الواقع مسلمانوں کے وجود کی علامت ہوتی تو وہ کبھی ڈھائی نہ جاتی۔ کیوں کہ مسلمانوں کے وجود کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے۔ ۱۵ نومبر ۱۹۹۳ مولانا حفیظ الرحمان صاحب آزادی کے بعد ۱۵ سال تک زندہ رہے۔ وہ ہندوستانی پارلیمنٹ کے ممبر تھے۔ پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں وہ گرج دار تقریریں کیا کرتے تھے۔ ہندو زیادتی کے خلاف اپنی ان تقریروں کی وجہ سے وہ مسلمانوں میں کافی مقبول ہوئے۔ بلکہ اپنی زندگی میں وہی واحد مقبول مسلم لیڈر تھے۔ وہ مجاہد ملت“ کے نام سے مشہور ہوئے۔ آزادی کے بعد یہی ”مجاہد ملت ماڈل“ مسلمانوں میں رائج ہو گیا۔ پرشور احتجاج کو لوگ کام سمجھنے لگے۔ اس درمیان میں کوئی داعئ ملت کی حیثیت سے نہیں ابھرا۔ اس لئے مسلمانوں میں ’داعی ملت ماڈل‘ بھی رائج نہ ہوسکا۔ ۱۶ نومبر ۱۹۹۳ مولانا ابو الکلام آزاد کانگریس کے تحت ہندوؤں کے ساتھ تھے۔ ہندوؤں کو ان کے اوپر اعتماد تھا۔ چنانچہ ۱۹۴۷ کے بعد ہندوؤں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ اسلام کو سمجھنا چاہتے ہو تو ابو الکلام آزاد کی کتابیں پڑھو۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے کئی ادارے قائم ہوئے ۔ مگر ابو الکلام کی الشار پردازانہ کتابوں میں کچھ مواد نہ تھا۔ چنانچہ دھیرے دھیرے یہ ہر ختم ہوگئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ وقت آنے والا ہے جب کہ ہندو یہ کہنے لگیں کہ اسلام کو سمجھنا چاہتے ہو تو وحید الدین خاں کی کتابیں پڑھو۔ اگر کبھی ایسا ہوا تو انشاء اللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader