Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوؤں کو مطالعہ کے لئے کافی ذخیرہ مل جائے گا۔ کیوں کہ اللہ کے فضل سے الرسالتہ کے تحت سو سے زیادہ کتابیں اسلام کے مختلف پہلوؤں پر تیار ہو گئی ہیں۔ اور یہ کتابیں مولانا ابوالکلام کی طرح انشاپردازانہ نہیں بلکہ سائنٹفک انداز میں ہیں جو کہ زمانہ کا انداز ہے۔ ۱۱ نومبر ۱۹۹۳ آج کے تمام اخباروں کی یہ خبر ہے کہ کشمیر کے جنگجوؤں نے از خود سرینڈر کر دیا۔ قصہ یہ ہے کہ کشمیر کے جنگجو ۶۵ کی تعداد میں سرینگر کی مسجد حضرت بل میں داخل ہوئے۔ اس کے اندر انھوں نے مہلک ہتھیار اکٹھا کر لئے۔ ان کا ارادہ اس کو اپنی عسکری جد وجہد کا اڈہ بنانا تھا۔ اس کے بعد ہندوستانی فوج نے مسجد کو گھیر لیا۔ اس نے سادہ طور پر یہ کیا کہ باہر سے خوراک جانا بالکل بند کر دیا۔ آخر کار تمام جنگجو بھوک سے نڈھال ہو گئے اور مجبور ہو کر مسجد کے باہر نکل آئے اور اپنے آپ کو فوج کے حوالے کر دیا۔ اس طرح وہ ۳۲ دن تک مسجد کے اندر رہے۔ اس واقعہ کے فوراً بعد ۱۶ اکتوبر کو میں نے ٹی وی پر جنگجوؤں سے اپیل کی تھی کہ مسجد کو ہتھیاروں کا اڈہ بنانا اسلام کے خلاف ہے۔ وہ رضا کارانہ طور پر اس سے باہر نکل آئیں۔ مگر جنگجو حضرات اس وقت اتنے جوش میں تھے کہ مجھ کو قتل کی دھمکی دینے لگے۔ مگر ۳۲ دن کے بعد حالات کے دباؤ کے تحت انھوں نے خود مسجد کو چھوڑ دیا۔ آج میں نے اخباروں میں یہ خبر پڑھی تو میرا تاثر یہ تھا ـــــ موجودہ زمانہ کے مسلمان یا جذباتی اقدام جانتے ہیں یا مجبوارانہ پسپائی۔ اصول کے تحت خاموشی کے طریقہ کو انھوں نے اب تک نہیں جانا۔ ۱۸ نومبر ۱۹۹۳ بخاری میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : ما خیر رسول الله صلى الله الله عليه وسلم بين امرين الا اختار ايسرهما (رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو جب بھی دو امر میں سے ایک کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے)۔ اس حدیث پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ یہاں آسان سے مراد ممکن العمل اور شکل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page