آغازِ کلام
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
سے مراد نا ممکن العمل ہے۔ آپ کی پوری زندگی مشکلوں میں گزر رہی۔ مجرد آسان کا طالب ہونا آپ کا طریقہ نہ تھا۔ البتہ آپ کی سیرت کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ یہ دیکھتے تھے کہ کسی خاص وقت میں کیا چیز قابلِ عمل ہے اور کیا چیز قابل عمل نہیں ہے۔ چنانچہ آپ ہمیشہ اس طریقہ کو اختیار فرماتے تھے جس کو بوقتِ فیصلہ زیرِ عمل لانا ممکن ہو۔ اور حالات کے اعتبار سے اس وقت جس چیز کو عمل میں لانا نا ممکن ہو اس کو ترک فرماتے تھے۔ ۱۹ نومبر ۱۹۹۳ کسی حدیث یا کسی اسوۂ رسول کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو اس کے حالات میں رکھ کر دیکھا جائے۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ لا تجتمع دينان في جزيرة العرب۔ دوسری طرف سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپ نے ایک" صحیفہ" جاری فرمایا۔ اس میں لکھا ہوا تھا : للمسلمين بينهم وليهود دينهم۔ یہ دونوں باتیں بظاہر ایک دوسرے کے غیر مطابق ہیں۔ اس کی توجیہ اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتی کہ یہ کہا جائے کہ دونوں دو مختلف حالات کے لئے ہیں۔ ایسی حالت میں جو مسلمان ایک حدیث کو لے کر اس کو ہر طرح کے حالات میں چسپاں کرنے لگتے ہیں وہ واضح طور پر سنت نبوی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ فرد ہو یا جماعت، اگر نشانہ غلط ہو تو اس کے بعد اس کی تمام سرگرمیاں غلط ہوتی چلی جائیں گی۔ بیسویں صدی کے نصفِ اول میں مسلم دنیا میں کئی شخصیات اور تحریکیں اٹھیں جنہوں نے غلط طور پر غلبہ اور اقتدار کو نشانہ بنایا۔ پہلے مرحلہ میں انہوں نے پریس کے ذریعہ کو استعمال کر کے اسلامی انقلاب لانا چاہا۔ اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو دوسرے مرحلہ میں انہوں نے مصر، پاکستان، سوڈان ، الجیرائزہ وغیرہ میں الیکشن میں حصہ لیا۔ الیکشن کے ذریعہ بھی وہ اقتدار تک نہ پہنچ سکے۔ اب ساری دنیا میں اس ذہن کے لوگ تیسرے مرحلہ میں داخل ہو گئے ہیں۔ وہ تشدد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader