آغازِ کلام
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ذریعہ اسلامی انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر یہ تحریکیں اپنے آخری برے انجام کو پہنچ گئی ہیں۔ انھوں نے دعوت کو فساد کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ کمیونسٹوں کا تشدد ختم ہو گیا۔ اب نام نہاد اسلام پسندوں کے تشدد کا دور دنیا میں آگیا ہے۔ یہ لوگ اسلام کو قائم تو نہ کر سکے، البتہ اسلام کو بدنام کرنے کا کارنامہ ضرور انھوں نے انجام دیا ہے۔ ۲۱ نومبر ۱۹۹۳ لوگوں سے ملاقاتوں اور گفت گوؤں کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان صرف قومی اہمیت کی باتوں کو جانتے ہیں۔ دعوتی اہمیت کی باتوں سے وہ شعوری طور پر آشنا نہیں۔ ایک لغو بات جس میں بظاہر قومی مفاد بتایا گیا ہو، ان کی سمجھ میں فوراً آ جاتی ہے۔ مگر ایک با معنی بات جس میں دعوتی مفاد بھر پور طور پر موجود ہو وہ ان کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ ۲۲ نومبر ۱۹۹۳ ۲۰ - ۲۱ نومبر کو میں بمبئی میں تھا۔ آج وہاں سے واپس آیا۔ وہاں بہت سے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ جسٹس قاضی سے مسلمانوں کی حالت پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جس طرح ایک فرد کا وجود degeneration کا شکار ہوتا ہے۔ اسی طرح قوموں کا بھی ڈی جنریشن ہوتا ہے۔ مسلم قوم اس سے مستثنیٰ نہیں۔ حدیث کے مطابق قرون مشہود لھا بالخیر صرف تین ہیں۔ عہد رسالت، عہد صحابہ، عہد تابعین۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تابعین کے بعد مسلم امت کا زوال شروع ہو گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ دور عروج اور دور زوال کے درمیان عمر بن عبد العزیز کا وجود حد فاصل ہے۔ ۲۳ نومبر ۱۹۹۳ میرے ایک دانت میں چند دن سے درد ہے۔ درد کی شدت میں ہر چیز بے معنی معلوم ہونے لگی۔ میں نے سوچا کہ ایک شخص کو دنیا کی تمام نعمتیں مزید اضافہ کے ساتھ دے دی جائیں اور اس کے بعد صرف اتنا ہو کہ اس کے ایک دانت میں ہمیشہ کے لیے درد رکھ دیا جائے، ایسے شخص کے لیے ساری نعمتیں بے معنی ہو جائیں گی۔ وہ کہے گا کہ ساری نعمتیں لے لو اور میرا دانت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader