آغازِ کلام
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
اچھا کردو۔ سورت کے تین صاحبان سے ملاقات ہوئی۔ وہ تبلیغ کے تحت یہاں آئے تھے۔ سورت کے فساد کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”کچھ مسلمانوں کی غلطیاں بھی اس میں شامل تھیں“۔ میں نے دریافت کیا کہ مسلمانوں کی غلطیاں کیا تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اصل یہ ہے کہ سورت میں فساد کا آغاز مسلمانوں نے کیا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کی شام کو بابری مسجد ڈھانے کی خبر مل گئی تھی۔ ۷ دسمبر کی صبح کو مسلم نوجوان سورت کی سڑکوں پر نکل آئے۔ انھوں نے ہڑتال کی کال دی۔ اور لوگوں کی دکانیں بند کرانے لگے۔ ہندو لوگ دکان بند نہیں کر رہے تھے تو ان پر پتھراؤ کیا۔ اس کے نتیجہ میں ہندوؤں میں جوابی تشدد پیدا ہوا۔ اگرچہ سورت کے فساد میں جو ہندو ملوث ہوئے وہ زیادہ تر باہر کے ہندو تھے، مگر ان ہندوؤں کو سورت میں آکر فساد کرنے کا موقع خود مقامی مسلمانوں نے فراہم کیا۔ ۲۵ نومبر ۱۹۹۳ رات میں نے مولانا جلال الدین انصر عمری (رکن مجلس شوریٰ، جماعت اسلامی ہند) کو خواب میں دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مولانا ابو الکلام مودودی کے بعد جماعت اسلامی میں کوئی جاندار لٹریچر پیدا نہ ہو سکا۔ پھر بھی جماعت اسلامی چل رہی ہے ۔ اس کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کوئی خاص جواب نہیں دیا۔ پھر میں نے کہا کہ اس کا راز ایک انحراف (deviation) ہے ۔ تقسیم کے بعد جلد ہی جماعت اسلامی نے مسلم لیگ کا انداز اختیار کر لیا۔ ملی مسائل کے نام پر وہ مسلمانوں کی قومی خواہشات کی ترجمانی کرنے لگی۔ اس تبدیلی نے اس کو دوبارہ سنبھال لیا۔ زوال یافتہ قوم کی وکالت کرنے والا قوم کے اندر محبوب بنتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص زوال یافتہ قوم کی اصلاح کرنا چاہے وہ قوم کے اندر مبغوض بن کر رہ جائے گا۔ اس وقت مسلمانوں میں جو تحریکیں چل رہی ہیں ان سے تحفظ ملت کا کچھ ضمنی فائدہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader