Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لئے ایک ہی صحیح اصول ہے اور وہ یہ کہ پیش آمدہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے جو بھی تدبیر کی جائے وہ یہ سوچ کر کی جائے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر ایک مسئلہ کو حل کرنے کے نام پر دو اور شدید تر مسئلہ پیدا ہو جائے تو یہ ایک الٹی تدبیر ہوگی جس سے بچنا ہر دانشمند آدمی کے لئے ضروری ہے۔ ۲۸ جنوری ۱۹۹۳ دہلی کی جامع مسجد کے امام نے نہایت احمقانہ طور پر یہ اعلان کیا کہ مسلمان ۲۶ جنوری کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں اور اپنے گھروں اور دکانوں پر کالا جھنڈا لگائیں۔ اس کی وجہ سے پرانی دہلی میں تناؤ پیدا ہوا۔ اس کے بعد ۲ جنوری کو ترابر بہرام خاں کی مسجد میں ایک معمولی واقعہ ہوا۔ اس کے امام صاحب دن میں مسجد کا دروازہ بند کر کے ٹیوشن کے لئے چلے گئے۔ واپس آکر وہ مسجد کا تالا کھول کر اندر داخل ہوئے تو قرآن کے کچھ سپارے الماری سے گر کر فرش پر پڑے ہوئے تھے۔ بیوقوف امام صاحب فوراً باہر نکلے اور محلہ میں یہ چرچا شروع کر دیا کہ کسی نے مسجد میں داخل ہو کر قرآن کی بے حرمتی کی ہے۔ تمام لوگ اس بات کو سن کر اسے دہرانے لگے۔ کسی نے امام صاحب سے یہ نہ پوچھا کہ مسجد کے دروازہ میں باہر سے تالا لگا ہوا تھا تو کوئی شخص کیسے اس کے اندر چلا گیا۔ یہ افواہ تیزی سے پرانی دہلی میں پھیل گئی اور جامع مسجد کے علاقہ میں فساد پھوٹ پڑا۔ چتلی قبر میں مسلمانوں نے ایک سہگل پینٹ ہاؤس کو آگ لگا دی۔ گلی کو تانہ (سوئی دالان) میں ایک مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ایک ہندو ڈاکٹر کے کلینک کو جلا دیا۔ دو آدمی چہرے بازی میں مارے گئے۔ وغیرہ۔ اگلے دن قومی آواز کا نمائندہ علاقہ میں گیا۔ اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس علاقہ میں بندر رہتے ہیں۔ بندروں نے مسجد میں گھس کر اچھل کود کی جس کی وجہ سے الماری پر رکھے ہوئے سپارے زمین پر گرپڑے (قومی آواز ۲۹ جنوری ۱۹۹۳) جناب ریاض احمد آرٹسٹ (دریای گنج) نے بتایا کہ وہ مذکورہ مسجد میں گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں یہاں ہوتا تو ہرگز یہ فساد نہیں ہو سکتا تھا۔ لوگوں نے پوچھا کہ وہ کیسے ریاض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page