Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

تو ہو سکتا ہے ۔ مگر ان کے ذریعہ احیاءِ اسلام کا بر تر نتیجہ کبھی نہیں نکل سکتا۔ یہ تمام تحریکیں فکری محدودیت کا شکار ہیں۔ ان میں سے کوئی تحریک ملت کی اصلاح میں کچھ passive role ادا کرتی ہے۔ کوئی تحریک خارجی مسائل کے ذیل میں کچھ agitative role رول ادا کر سکتی ہے، بشرطیکہ اسے کوئی رول کہا جا سکے ۔ جہاں تک مثبت معنوں میں فعال کر دار (active role) کا سوال ہے، وہ ان میں سے کسی بھی تحریک کے لئے ادا کرنا ممکن نہیں۔ احیاءِ اسلام کے لئے فعال کردار (active role) ادا کرنے والی تحریک میں دو صفتیں لازمی طور پر ہونی چاہئے۔ ایک یہ کہ وہ انسانیت عامہ کے لئے اٹھی ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقت کے فکری معیار کے مطابق ہو۔ اور یہ دونوں صفتیں موجودہ زمانہ کی کسی بھی مسلم تحریک میں موجود نہیں۔ ۲۷ نومبر ۱۹۹۳ مسٹر ایم اے سراج نے کہا کہ آپ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ حکومت سے نہ ٹکرائیں اور حالات کے اعتبار سے جو مواقع حاصل ہیں بس ان کے دائرہ میں رہ کر اپنی تعمیر کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ظلم اور بے انصافی ہو تو اس کو دور کرنے کے لئے مسلمان نہ اٹھیں۔ کیا آپ مسلمانوں کو status quoist بنا دینا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ status quoist نہیں ہے۔ یہ در اصل اسٹارٹنگ پوائنٹ حاصل کرنا ہے۔ اگر آپ بے انصافی کے نام پر حکومتوں سے لڑتے رہیں تو آپ کو اپنی زندگی کی تعمیر کے لئے نقطہ آغاز ہی نہیں ملے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک مسلمان ہر جگہ حکومتوں سے لڑ رہے ہیں اور اب تک وہ کچھ حاصل نہ کر سکے۔ جب کہ اسی جنگ کے بعد جاپان نے سیاسی ٹکراؤ کو اوائڈ کرتے ہوئے حاصل شدہ دائرہ میں جدوجہد شروع کی تو آج وہ سب کچھ پا چکا ہے۔ زندگی کے عمل میں اصل اہمیت نقطہ آغاز کی ہے۔ اگر آدمی کو صحیح نقطہ آغاز مل جائے تو آخر کار وہ کامیابی کی منزل پر پہنچ کر رہتا ہے۔ اور اگر نقطہ آغاز نہ ملے تو بظاہر ہنگامہ خیز جد و جہد کے باوجود وہ کہیں بھی نہیں پہنچے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page