Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

گودھرا کے حاجی سلیمان کوٹھی اور ان کے ایک ساتھی ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ ۲۹ اکتوبر ۱۹۸۰ کو گودھرا میں ایک ہندومسلم فساد ہوا تھا۔ اس کے نتیجہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں تقریباً ایک سال تک کشیدگی جاری رہی۔ اس طرح کے فرقہ وارانہ فساد عام طور پر ہندو جلوس کے موقع پر ہوتے ہیں۔ اگلے سال گنتی کا جلوس نکالنے کی تاریخ آئی تو گودھرا کے مسلمانوں کو تشویش ہوئی۔ یہ جلوس جہاں شروع ہوتا ہے اور جہاں ختم ہوتا ہے اس کا فاصلہ تقریباً چھ کلومیٹر ہے۔ اس روٹ کے درمیان ڈیڑھ کلومیٹر مسلمانوں کا علاقہ ہے۔ جلوس اپنا سفر تقریباً سات گھنٹے میں طے کرتا ہے۔ مسلم علاقہ میں وہ کم از کم تین گھنٹہ تک رہتا ہے۔ یہاں وہ رک رک کر اشتعال انگیز نعرے لگاتا ہے۔ مثلاً: ہاتھ میں بیڑی منھ میں پان ، میاں چلے جاؤ پاکستان جو ہم سے ٹکرائے گا ، مٹی میں مل جائے گا۔ گودھرا کے مسلمانوں نے مشورہ کرکے طے کیا کہ ہم لوگ یکطرفہ طور پر ادا کرنے کا طریقہ اختیار کریں چناچہ جس دن جلوس نکلتا ہے مسلمان اس روٹ پر اپنی تمام دکانیں بند کر دیتے ہیں۔ نوجوانوں کو گھروں میں روک دیا جاتا ہے۔ بڑی عمر کے لوگ چورا ہوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور کوئی مسلم نوجوان دکھائی دیتا ہے تو فوراً اس کو واپس بھیج دیتے ہیں۔ صبر و اعراض کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ گودھرا میں اگرچہ اب بھی ہر سال گنتی کا جلوس نکلتا ہے۔ مگر وہاں سالوں سے کوئی فساد نہیں ہوا۔ ۲۹ نومبر ۱۹۹۳ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے بتایا کہ میری ملاقات آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک خاص رکن سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بتاؤ کہ تمہارے اس بورڈ کا فائدہ کیا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کا حال تو یہ ہے کہ طلاق کے معاملہ میں جو لڑکے والے وہ اسلامی فتویٰ تلاش کرتا ہے تاکہ اسے لڑکی کو mantenar نہ دینا پڑے۔ اور جو لڑکی والا ہے وہ فوراً ملکی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page