Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

عدالت میں پہنچتا ہے تاکہ وہاں سے اپنے حق میں فیصلہ لے آئے۔ جب مسلم معاشرہ کا یہ حال ہو تو تمہارا اپر سنل لاہور کیا کارنامہ انجام دے سکتا ہے۔ بمبئی کے ہارون شیخ (464928 .Tel) ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ۱۲ مارچ کے بمبلاست سے کچھ نادان مسلمان خوش ہورہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچا۔ انھوں نے کہا کہ شروع جنوری ۱۹۹۳ میں جب بمبئی میں فساد ہوا تو اس کے بعد بمبئی کے مسلمانوں میں ایک نئی سوچ آئی تھی۔ ہر آدمی یہ بولتا ہوا ملتا تھا کہ ہم کو تعلیم میں آگے بڑھنا ہے۔ ہم کو اپنے اندر اتحاد پیدا کرنا ہے۔ ہم کو اقتصادی شعبوں میں ترقی کرنا ہے۔ ورنہ ہم اسی طرح مار کھاتے رہیں گے۔ مگر اس کے بعد ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ کو جب بمبئی میں بامب بلاسٹ ہوا تو مسلمان مطمئن ہوگئے۔ انھوں نے سمجھا کہ اب معاملہ برابر ہو گیا۔ چنانچہ جو مسلمان پہلے یہ کہتے تھے کہ ہمیں اپنی ترقی کے لئے کچھ کرنا ہے، وہ اب یہ کہنے لگے کہ انھوں نے اگر فائبوڈ سے پیچ جیتا تھا تو ہم نے دن ڈے پیچ جیت لیا۔ یکم دسمبر ۱۹۹۳ علماء نے مجتہد کی دو قسم بتائی ہے۔ مجتہد عام اور مجتہد مطلق میرا خیال ہے کہ اس تقسیم کو زیادہ بہتر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک مجتہد وہ ہے جو سادہ طور پر صرف مفتی ہو۔ دوسرا مجتہد وہ ہے جو اپنے اجتہاد کے ذریعہ ایک مستقل مکتب فکر پیدا کرے۔ علامہ اقبال ایک ایسے مجتہد کے منتظر تھے جو فقہ اسلامی کو جدید حالات پر منطبق کرکے ایک مکمل قانونی نظام کا نقشہ پیش کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کا مجتہد اعظم اس کے برعکس وہ ہوگا جو فقہ کے اسی تو سیعی رول کو گھٹائے جو بعد کو دور عباسی میں پیدا ہوا۔ یہ مجتہد اسلام کو دوبارہ حنیفیت سمحہ کی طرف لے جائے گا جب کہ روح اسلام کی حیثیت اولین تھی اور قانونی ہیئت کی حیثیت صرف ثانوی۔ ایک مسنون دعا ہے کہ اے اللہ، میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page