Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ایسے قلب سے جو عاجزی نہ کرے اور ایسی دعا سے جو قبول نہ کی جائے (اللھم انی اعوذ بك من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن دعاء لا يستجاب لها )، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خشوع کا تعلق علم سے بھی ہے اور دعا سے بھی۔ خشوع آدمی کے اندر وہ گہری معرفت پیدا کرتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کے اندر سے سچی دعا ظاہر ہو۔ ۳ دسمبر ۱۹۹۳ آج کشمیر ہاؤس میں کشمیر کے گورنر جنرل راؤ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے خود اس کی خواہش ظاہر کی تھی۔ میرے اندازہ کے مطابق وہ نہایت صحیح مزاج کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر میں ہماری پالیسی یہ ہے کہ جنگجؤں کے معاملہ میں vigorous اور عام پبلک کے معاملہ میں linient میں سمجھتا ہوں کہ یہی زندگی کا بہترین اصول ہے۔ یعنی لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے ایک اور دوسرے کے فرق کو ملحوظ رکھنا۔ اسی کو شیخ سعدی نے اس طرح نظم کیا ہے : درشتی و نرمی بم در به است که رگ زن که جراح مرہم نه است ۴ دسمبر ۱۹۹۳ لندن سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام البیان (7318145-071 Tel) ہے۔ اس کے صفحہ ۱۰۶ پر درج ہے کہ یونس الصوفی نے لکھا ہے کہ میں نے ایک روز امام الشافعی سے ایک مسئلہ پر بحث کی۔ پھر ہم دونوں جدا ہو گئے۔ بعد کو امام شافعی سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ اے بوموسیٰ ، کیا یہ اچھا نہیں کہ ہم بھائی بھائی کی طرح رہیں ، چاہے ہم ایک دوسرے سے اتفاق نہ رکھتے ہوں : ما رأيت اعقل من الشافعي ناظرته يوماً في مسئلة ثم افترقنا۔ ولقيني فأخذ بيدى ثم قال : يا ابا موسى الا يستقيم ان نكون اخوانا وان لم نتفق۔ امام شافعی نے جو بات کہی وہ ایک اعلی انسانی صفت ہے۔ اسلامی معاشرہ میں جب اعلیٰ انسان ہوں تو اعلیٰ انسانی اوصاف پائے جائیں گے اور ادنیٰ انسان ہوں تو دٹیٰ انسانی اوصاف۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page