Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم زمانہ کا ایک لوہار صرف حد ود بزنس کر سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی انقلاب نے ایک صنعت کار کو اپنا بزنس بڑھانے کے لامحدود مواقع دیدے ہیں۔ مثال کے طور پر جے آر ڈی ٹاٹا ۹۵ فیکٹریوں کو کنٹرول کر رکھا تھا جن کا گروپ سیل، ہزار کروڑ سالانہ تھا۔ یہی معاملہ مذہب کا بھی ہے۔ قدیم زمانہ میں مذہب کو تجارت بنانے کے امکانات بہت محدود تھے۔ موجودہ زمانہ کے حالات نے ایک شخص کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ مذہب کے نام پر ایک عظیم مذہبی انڈسٹری قائم کر سکے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ نفع بخش کام دو ہیں ــــــــــ علم اور مذہب۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۳ لوگ اپنی ذات کو مبالغہ آمیز حد تک جانتے ہیں لیکن دوسروں کے بارہ میں وہ آخری حد تک بے خبر ہیں۔ مگر سچا عالم وہ ہے جو اپنے بارہ میں کم سے کم جانے اور دوسروں کے بارہ میں زیادہ سے زیادہ جانے کا حریص ہو۔ اپنی ذات آدمی کے لئے احتساب کا موضوع ہونا چاہئے اور دوسروں کی ذات اس کے لئے اکتساب کا موضوع۔ ۷ دسمبر ۱۹۹۳ ۵ دسمبر کو میں رشی کیش گیا تھا جو ہندوؤں کا مقدس مقام ہے۔ ۷ دسمبر کو وہاں سے واپس آیا۔ اس سفر میں بہت سے تعلیم یافتہ ہندوؤں سے مذہبی مسائل پر بات ہوئی۔ میرا احساس یہ ہے کہ ہندوؤں کا ذہنی ساپچہ موحدانہ طرز فکر سے اتنا مختلف ہے کہ ان کو اسلام کا نقطہ نظر سمجھانا سخت مشکل ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا ذہنی ساپچہ درست ہے۔ مگر ان کی اکابر پرستی نے ان کے ذہن کو جامد بنا دیا ہے۔ ہندو اگریشن کی انحراف کا شکار ہیں تو مسلمان فکری جمود میں مبتلا ہیں۔ ایک نوجوان اصلاحی عالم سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں قرآن کو اپنے مطالعہ اور تحریر کا موضوع بنانا چاہتا ہوں۔ مجھ کو اس سلسلہ میں مشورہ دیجئے ۔ میں نے کہا کہ میرا پہلا مشورہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page