Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

تو یہ ہے کہ آپ اصلاحی نظریہ قرآن سے اپنے آپ کو آزما دیجئے۔ یہ آپ کے لئے فہم قرآن کا پہلا زینہ ہے۔ میں نے کہا کہ مدرسۃ الاصلاح مولانا حمید الدین فراہی کے فکر پر قائم ہے۔ مولانا فراہی کا نظریہ یہ تھا کہ نظم فہم قرآن کی کلید ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ فراہی نظریہ کس قرآنی نص سے ماخوذ ہے۔ جو چیز فہم قرآن کی کلید ہو اس کو خود قرآن میں مذکور ہونا چاہئے۔ مگر ایسی کوئی آیت پورے قرآن میں موجود نہیں۔ یہ پورا تصور ذاتی ریزننگ پر قائم ہے نہ کہ قرآنی نص پر۔ اس قسم کا کوئی نظریہ فہم قرآن میں رکاوٹ ہے نہ کہ فہم قرآن کی شاہ کلید۔ قرآن کے شروع ہی میں یہ آیت ہے کہ ذلك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين اسی طرح قرآن میں ہے کہ اتقوا الله ويعلمكم الله (البقره (۲۸۲) ، اس طرح کی مختلف آیتیں بتاتی ہیں کہ فہم قرآن کے لئے سب سے زیادہ اہم چیز تقویٰ ہے۔ ایسی حالت میں خود ساختہ طور پر کسی اور چیز کو کس طرح فہم قرآن کی کلید قرار دیا جاسکتا ہے۔ ۹ دسمبر ۱۹۹۳ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر نبوت کے ابتدائی ۱۳ سال تک مکمل طور پر صبر کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ بے حد مشکل کام تھا۔ اس مشکل کام کو ممکن بنانے کے لئے اس زمانہ میں قرآن میں صبر کی اہمیت اور عظمت پر کثرت سے آیتیں اتاری گئیں۔ مثلاً سورۃ العصر میں صبر کو خسران سے بچنے کا واحد ذریعہ بتایا گیا۔ سورہ الشوریٰ میں فرمایا کہ ولمن صبر و غفر فان ذلك من عزم الامور آپ نے جہاد (یعنی قتال) پر صرف ہجرت کے بعد عمل فرمایا۔ کسی تحریک کے دو دور ہوتے ہیں۔ ایک ابتدائی دور جب کہ وہ قسم کے ٹکڑے اسے بچتے ہوئے اپنے داخلی پہلو کو مستحکم کرتی ہے۔ دوسرا وہ دور جب کہ وہ خارجی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ضروری اقدام کرتی ہے۔ پہلے دور کو صبر اور دوسرے دور کو جہاد کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمان صبر کے دور میں تھے۔ کیوں کہ زندگی کی دوڑ میں وہ دوسری قوموں سے پیچھے گئے تھے۔ نئے زمانہ کے اعتبار سے انہیں اپنے آپ کو مستحکم اور طاقت ور بنانے کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لئے انہیں خارجی مسائل میں الجھنے سے اعراض

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page