آغازِ کلام
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتے ہوئے ساری طاقت داخلی استحکام پر صرف کرنا تھا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ساری دنیا کے مسلمان دوسری قوموں سے بے نتیجہ ٹکراؤ میں مشغول ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ موجودہ زمانہ کے تمام مفکرین اور مصلحین نے صرف جہاد کی اہمیت بیان کی۔ وہ مبحر کی اہمیت بیان کرنے میں ناکام رہے۔ عظمت جہاد پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں۔ مگر عظمت پر کوئی ایک کتاب بھی جدید اسلامی کتب خانہ میں موجود نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاد تو لوگوں کو بڑا کام نظر آیا۔ مگر صبر انہیں بے عملی اور بزدلی دکھائی دیا۔ ایسی حالت میں یہی ہو سکتا تھا اور یہی ہوا کہ دور صبر میں لوگ عمل جہاد کے کارنامے دکھاتے رہے۔ ملت کے حصہ میں یکطرفہ بربادی کے سوا اور کچھ نہیں آیا۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۹۳ صریح احادیث کی بنا پر علماء نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ مسلم حکمران کے خلاف خروج (بغاوت) جائز نہیں خواہ بظاہر وہ ظالم اور فاسق کیوں نہ ہو۔ امام نووی نے لکھا ہے کہ اہل اسلام کے اجماع کے مطابق خروج حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خروج فساد اور خوں ریزی پیدا کر کے شدید برائی کا سبب بنے گا۔ (صحیح مسلم بشرح نووی ۱۲ / ۲۲۹ ) مذکورہ حکم کی توسیع کرتے ہوئے میرا خیال ہے کہ غیر مسلم حکمران بھی اگر مذہبہی آزادی دئے ہوئے ہو تو اس کے خلاف بھی خروج بھی جائز نہیں۔ کیوں کہ غیر مسلم حکمران کے خلاف بغاوت میں بھی فتنہ کا ترتب یقینی ہے۔ اور معلوم ہے کہ علت اگر مشترک ہو تو حکم بھی مشترک ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام آدمی کو status quoist بناتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرصت کار اس کے بغیر ممکن نہیں۔ زندگی میں اصل اہمیت یہ ہے کہ آدمی کو کام کرنے کے مواقع حاصل ہوں۔ مواقع کا ہونا آدمی کو نقطہ آغاز دیتا ہے اور جب عمل کے لئے نقطۂ آغاز مل جائے تو آدمی جدوجہد کر کے کامیابی کے اگلے مراحل تک پہنچ سکتا ہے۔ اور جب عمل کے لئے نقطہ آغاز ہی نہ ملے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی حال سے بھی محروم ہو گیا اور نتیجۂ مستقبل سے بھی۔ اس معاملے میں اصل قابل لحاظ بات یہی ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader