آغازِ کلام
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
پروفیسر ریاض پنجابی آجکل دہلی میں رہتے ہیں اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اگست ۱۹۹۱ میں وہ ایک امن کانفرنس میں شرکت کے لئے ایمسٹرڈم گئے۔ اس کے بعد انھوں نے چند دن فنلینڈ میں گزارے۔ انھوں نے دیکھا کہ فنلینڈ کی دیواروں پر جگہ جگہ یہ سلوگن لکھا ہوا ہے کہ مسلمانوں سے بچو ، وہ سب کے سب خمینی ہیں۔ دیکھو انھوں نے رشدی کے ساتھ کیا کیا : In the year 1991 in Finland a slogan appeared on the walls: "Beware of Muslims. They are all Khomenis. See what they did to Rushdie." ۱۲ دسمبر ۱۹۹۳ خلیل جبران ۶ جنوری ۱۸۸۳ کو لبنان میں پیدا ہوا۔ ۱۰ اپریل ۱۹۳۱ کو نیویارک میں اس کی وفات ہوئی۔ تاہم اس کی وصیت کے مطابق ، اس کی لاش لبنان لائی گئی اور یہاں اس کے آبائی وطن میں دفن کی گئی۔ خلیل جبران کی قبر پر کسی نے یہ تختی لگا دی تھی : ھھنا یرقد بیننا خلیل جبران (یہاں ہمارے درمیان خلیل جبران سورہے ہیں) مگر بعد کو کچھ لوگ پیدا ہوئے جو اس کے غالی معتقد تھے۔ انھوں نے کہا کہ تختی پر بیننا ( ہمارے درمیان ) نہیں لکھا ہے بلکہ نبینا ( ہمارے نبی ) لکھا ہوا ہے۔ انھوں نے اُس کو اس طرح پڑھنا شروع کیا : ھھنا یرقد نبینا خلیل جبران۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اندھی عقیدت آدمی کو کیسی کیسی گمراہیوں تک پہنچا دیتی ہے۔ ۱۳ دسمبر ۱۹۹۳ اپنے بعض قریبی ساتھیوں پر ۲۰ سال سے میں یہ کوشش کر رہا تھا کہ ان کے اندر موضوعی (objective) انداز فکر پیدا ہو۔ مگر میں ناکام رہا۔ میں نے پایا کہ عام حالات میں تو وہ غیر جانب دارانہ انداز میں سوچتے ہیں مگر جب ان کی اپنی ذات زد میں آجائے تو فوراً ان کی موضوعیت ختم ہو جاتی ہے۔ آج ایک صاحب سے اسی قسم کا تجربہ ہوا۔ اس کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader