آغازِ کلام
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے ان سے کہا : جس دن میری موت آئے گی اس دن ایک جنس (commodity) دنیا سے ختم ہو جائے گی اور پھر غالباً قیامت تک دوبارہ پیدا نہیں ہوگی۔ یہ جنس (objective thinking) ہے۔ ۱۴ دسمبر ۱۹۹۳ اگر یہ کہا جائے کہ اسلام انفرادی نجات کا نظریہ ہے تو یہ سننے والوں کو ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوگی۔ مگر جب ایک شخص کہتا ہے کہ اسلام عالمی قیادت کا نظریہ ہے تو یہ سننے والوں کو بہت بڑی بات معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بات کہنے والے کے گرد بھیڑ دکھائی نہیں دیتی۔ جبکہ دوسری بات کہنے والے کے گرد لاکھوں آدمیوں کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ یہ موجودہ دنیا کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اسی فتنے کی وجہ سے آج یہ صورتحال ہے کہ بے معنی تحریکوں کی دھوم ہے اور سچی تحریک کے گرد ہر طرف سناٹا دکھائی دیتا ہے۔ ۱۵ دسمبر ۱۹۹۳ قرآن کو پڑھئے تو وہ ایک خالص فکری کتاب معلوم ہوگی۔ اس کے بعد فقہ کو پڑھئے تو اسلام ایک قانونی ڈھانچہ کے روپ میں دکھائی دے گا۔ اس کے بعد جب آپ تاریخی کتابیں پڑھتے ہیں تو اسلام فتوحات اور شمشیر زنی کی تاریخ نظر آنے لگتا ہے۔ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا تجدیدی کام یہ ہے کہ لوگوں کو قرآن والے اسلام کی طرف لوٹایا جائے۔ مگر یہ کام جتنا زیادہ ضروری ہے وہ اتنا ہی زیادہ مشکل بھی ہے۔ ۱۶ دسمبر ۱۹۹۳ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپکی ذاتی زندگی میں ہر آدمی پریکٹیکل ہے۔ وہ ہمیشہ خالص معیاری موقف اختیار کرنے کے بجائے عملی موقف اختیار کرتا ہے۔ اس کے بغیر وہ ایک دن بھی موجودہ دنیا میں زندگی گزار نہیں سکتا۔ مگر یہی لوگ ملی معاملات میں پریکٹیزم کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ ملی معاملات میں وہ ہمیشہ آئیڈیلیزم کی بات کرتے ہیں۔ اس تضاد کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں ان کا جبلی تضا ضا کام کرتا رہتا ہے۔ جب کہ ملی معاملات میں کوئی موقف اختیار کرنے کے لئے آدمی کو اعلان کرنا پڑتا ہے۔ پہلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader