آغازِ کلام
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
موقف کے لئے جبلت کا زور کافی ہے۔ جبکہ دوسرے معاملہ میں زندہ شعور کی ضرورت ہے۔ جبلت کا زور تو ہر آدمی کو پیدائشی طور پر حاصل ہے، مگر زندہ شعور سے لوگ عام طور پر محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس نقطہ نظر کو وہ اپنی ذات کے معاملہ میں اختیار کئے ہوئے ہیں اسی نقطہ نظر کو وہ ملی امور میں اختیار نہیں کر پاتے۔ ۱۷ دسمبر ۱۹۹۳ء ایک حدیث میں ہے کہ بہت سے قرآن کی تلاوت کرنے والے ایسے ہیں کہ بظاہر وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں حالانکہ قرآن ان پر لعنت بھیجتا ہے (رُبَّ تَارِلِ اِلْقُرْآنِ وَالْقُرْآنُ يَلْعَنُه ) یہاں غالباً "تلاوت" سے مراد معروف تلاوت نہیں ہے بلکہ اس سے مراد قرآن کا وہ پڑھنا ہے جب کہ آدمی اپنے نقطہ نظر کی حمایت میں قرآن کی آیتیں پیش کرتا ہے۔ جب ایسا ہو کہ آدمی ایک ایسی بات کہے جو اس کا ذاتی نظریہ ہو مگر اس کی تائید میں وہ غلط طور پر قرآن کی آیتیں پیش کرے تو قرآن کو اس طرح پڑھنا آدمی کے لئے لعنت کا سبب بن جاتا ہے۔ ۱۸ دسمبر ۱۹۹۳ء سفیان الثوری (۱۶۱ - ۹۷ ھ) بہت بڑے محدث تھے۔ خلیفہ منصور عباسی نے ان کو عہدہ دینا چاہا مگر انھوں نے انکار کیا اور اپنے وطن کو نہ چھوڑ کر مکہ چلے گئے۔ اس کے بعد خلیفہ مہدی نے ان کو عہدہ دینے کے لئے بلایا مگر وہ بصرہ جا کر چھپ گئے اور اسی حال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ سفیان الثوری کا ایک قول ہے: اِنَّمَا الْفِقْه الرُّخْصَةُ مِنْ ثِقَةٍ۔ اَمَّا التَّشَدُّدُ فَيُحْسِنُه كُلُّ اَحَدٍ ۔ یعنی فقہ تو یہ ہے کہ کسی مستند ذریعہ سے دین میں رخصت (آسانی) کا پہلو معلوم کیا جائے۔ جہاں تک شدت پسندی کا تعلق ہے تو اس کا ماہر تو ہر شخص ہوتا ہے۔ آجکل مسلمانوں کے اخبارات ورسائل مظالم غیر کی داستانوں سے بھرے رہتے ہیں۔ کراچی کے ماہنامہ الفاروق دربیع الثانی ۱۴۱۴ھ کا صفحہ ۳ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader