Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

صاحب نے ان کو جواب دیا کہ میں فرش پر گرے ہوئے سپاروں کو اٹھا کر انہیں دوبارہ الماری پر رکھ دیتا اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرتا۔ مسجد میں موجود ایک مسلمان نے کہا: "ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم الرسالہ پڑھتے ہو"۔ کیسی عجیب بات ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ الرسالہ کا طریقہ اختیار کرنے سے فساد نہیں ہوگا ، اس کے باوجود وہ سرکشی کا طریقہ اختیار کر کے فساد برپا کرتے ہیں۔ ۲۹ جنوری ۱۹۹۳ آج خواجہ افتخار احمد سنبھلی (۳۸ سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ ماڈرن اسکول ، بارہ کھمبا روڈ ، نئی دہلی میں استاد ہیں۔ ان کا ٹیلیفون نمبر یہ ہے : 331618 انھوں نے بتایا کہ ماڈرن اسکول میں وہ تنہا مسلمان استاد ہیں۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے واقعہ کے بعد اسکول کے لڑکوں نے کئی بار ان کے ساتھ بدتمیزی کی۔ مثلاً وہ اسکول کے گیٹ میں داخل ہو رہے ہیں یا نکل رہے ہیں ، وہاں کھڑے ہوئے لڑکوں نے ان کی طرف دیکھ کر کہنا شروع کیا : مندر وہیں بنائیں گے ۔ مگر افتخار صاحب نے ذرا بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ چند دن بعد لڑکے خود ان کے کمرہ میں آئے ۔ انھوں نے افتخار احمد صاحب کا چرن اسپرش کیا اور ان سے معافی مانگی۔ افتخار احمد صاحب الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برداشت میں بہت بڑی طاقت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں برداشت کا مادہ نہیں۔ اسی لئے وہ مصیبت اٹھا رہے ہیں۔ ۳۰ جنوری ۱۹۹۳ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آجکل بابری مسجد کے بارے میں آپ کے تین نکاتی فارمولے کا بہت چرچا ہو رہا ہے۔ اس فارمولے پر عمل کرنے کے لئے ہم کو ہندو کے قول پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ پھر ہم کیوں کریں ان کے قول پر بھروسہ کر لیں جب کہ معلوم ہے کہ وہ مسلم دشمن ہیں۔ میں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ ہندوؤں کو مسلم دشمن سمجھتے ہیں جب کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page