آغازِ کلام
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک عرصہ گزر چکا کہ مسلمان بحیثیت مجموعی ذلت و خواری کی انتہا کی جانب مائل بہ سفر ہیں۔ ہر آنے والا دن عالم انسانی میں مسلمانوں کی حیثیت کو ایک درجہ کم کرتا چلا جا رہا ہے۔ مسلم امت کے مجموعی وتار میں کوئی اضافہ عرصہ دراز سے تاحال بظاہر محسوس نہیں ہوتا۔ لاہور کے روز نامہ نوائے وقت (۲۱ دسمبر ۱۹۹۳) کے ضمیمہ" ملی ایڈیشن" میں حسب ذیل الفاظ چھپے ہوئے ہیں: دنیا کی صنعتی و اقتصادی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی تصور کی جانے والی تیل کی دولت کا بڑا حصہ اسلامی ملکوں کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ لوہا ، ربڑ ، پٹ سن ، کپاس ، چاول ، فاسفیٹ اور دیگر صنعتی خام مال کی بھی اسلامی ملکوں میں بہتات ہے۔ لیکن قدرت کی ان نعمتوں کے باوجود عالم اسلام اقتصادی ، فنی اور سائنسی اعتبار سے مغربی ممالک کا دست نگر ہے .... انگریزوں ، فرانسیسیوں ، اطالویوں ، پرتگالیوں اور ڈچ قوم نے جو استحصالی نظام اپنے پیچھے چھوڑا او ہی اب تک مسلم ممالک میں کسی تبدیلی کے بغیر رائج ہے: ان اخباروں اور رسالوں میں عین اسی کے ساتھ اپنے مفروضہ قائد اعظم ، اور مفکر اعظم ، مصلح اعظم اور مجاہد اعظم کی شان میں بڑے بڑے تعریفی مضامین چھپتے ہیں۔ حالاں کہ اگر عالم اسلام کی مذکورہ تصویر درست ہے تو وہ لوگ اکابر رہنما نہیں تھے جن کو عام طور پر اکابر رہنما شمار کیا جاتا ہے ۔ اور اگر یہ افراد اکابر رہنما تھے تو اس کے بعد ملت کی وہ زبوں حالی نہیں ہونی چاہئے تھی جو آج ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔ ۲۰ دسمبر ۱۹۹۳ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے: من لم ينفعه ظنه لم تنفعه عينه جس کو اس کا گمان نفع نہ دے اس کو اس کی آنکھ بھی نفع نہیں دے سکتی) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی عقل سے بات کو نہ سمجھے وہ دیکھ کر بھی بات کو سمجھ نہیں سکتا۔ وہ دیکھنے کے باوجود حقیقت سے بے خبر رہے گا۔ ٹائیمز آف انڈیا (لازلاً ۲ دسمبر) میں ساؤتھ افریقہ کے بارہ میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سیاہ فام باشندوں کی تنظیم (African National Congress) اور سفید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader