Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

نام نسل کی تنظیم (Afrikaner People's Front) دونوں میں لمبی بات چیت کے بعد اس پر سمجھوتہ ہو گیا ہے کہ ساؤتھ افریقہ میں (non-racial democracy) قائم کی جائے گی اور اس کے لئے، ۲۷ اپریل ۱۹۹۴ء کو الیکشن کرایا جائے گا۔ ایک قومی تحریک ساؤتھ افریقہ میں چل رہی تھی۔ دوسری قومی تحریک فلسطین میں۔ پچاس سال بعد فلسطین میں تباہی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اور اسی پچاس سال میں ساؤتھ افریقہ کی قومی تحریک کامیاب ہو گئی۔ اس کی واحد فیصلہ کن وجہ یہ ہے کہ فلسطین کی تحریک تشدد کی بنیاد پر چلائی گئی اور ساؤتھ افریقہ کی تحریک عدم تشدد کی بنیاد پر۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ صرف تلوار کی طاقت کو جانتے ہیں، وہ امن کی طاقت کو نہیں جانتے۔ حالاں کہ موجودہ زمانہ میں امن کی طاقت ہی طاقت ہے۔ تلوار اب طاقت کی حیثیت سے اپنا مقام کھو چکی ہے۔ ۲۲ دسمبر ۱۹۹۳ روزنامہ قومی آواز (۲۲ دسمبر) میں صفحہ ۲ پر ایک خبر چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے ۔ بابری مسجد کی ۴۲ ویں یادگار ۲۳ دسمبر کو منانے کی شہاب الدین کی اپیل۔ مطبوعہ خبر حسب ذیل ہے : 'بابری مسجد تحریک رابطہ کمیٹی کے کنوینر سید شہاب الدین نے ۲۳ دسمبر ۱۹۹۳ کو بابری مسجد پر غیرت قانونی قبضہ کی ۴۳ ویں میں یادگار منانے کی اپیل کی ہے ۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ آج سے تقریبا ۴۲ برس قبل ۲۳ اور ۲۲ دسمبر کی درمیانی رات میں وہاں زبردستی رام کی مورتیاں رکھ دی گئی تھیں۔ انھوں نے بابری مسجد کی بحالی تحریک پر یقین رکھنے والی سیکولر طاقتوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلہ میں صدر جمہوریہ کو میمورنڈم پیش کریں جس میں بابری مسجد کی جگہ مسلمانوں کے حوالے کرنے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہو۔ کچھ اسلامی تعلیمات وہ ہیں جن کی انجام دہی کے لئے طاقت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثلاً نماز پڑھنا ، روزہ رکھنا ، وغیرہ ۔ اس قسم کے فرائض ہر مسلمان سے شخصی طور پر مطلوب ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page