آغازِ کلام
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر کچھ اور احکام وہ ہیں جن کی انجام دہی کے لئے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً جہاد (بمعنی قتال)، اور مجرمین کے اوپر سزا کا نفاذ، ایسے احکام کا تعلق افراد سے نہیں ہے۔ ان کا تعلق حکمران سے ہے۔ اگر عام شہری ان احکام کی تعمیل کے لئے کھڑے ہو جائیں تو اس پر انہیں اصلاح کا کریڈٹ نہیں ملے گا بلکہ شریعت کی نظر میں وہ فساد پیدا کرنے کے مجرم قرار پائیں گے۔ سید سابق نے اس سلسلہ میں فقہاء کے مسلک کو اس طرح بیان کیا ہے۔ اور فرض کفایہ کی تیسری قسم وہ ہے جس میں حکمران کا ہونا شرط ہے، مثال کے طور پر جہاد اور حدود و شرعی کا نفاذ (والنوع الثالث من الفروض الكفاية ما يشترط فيه الحاكم مثل الجهاد و اقامة الحدود) فقالة : ۲۰۳ ۲۴ دسمبر ۱۹۹۳ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ علماء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے مگر یہ صحیح نہیں۔ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے نہ کہ اتفاقی مسئلہ۔ مثلاً ابراہیم النخعی اور سفیان الثوری کی رائے مرتد کے بارہ میں یہ تھی کہ اس سے ہمیشہ صرف تو بہ کا ہی تقاضا کیا جائے گا، اور اس کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ (يُستتاب أبدًا أو لا يُقتَل)، توبہ طلب کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ مرتد کے پاس جاکر اس سے کہا جائے کہ تم توبہ کر لو۔ اس میں اس کی اصلاح کے تمام ذرائع شامل ہیں۔ مثلاً اس سے یہ معلوم کیا جائے کہ اس نے کس بنا پر ارتداد کیا ہے اور پھر اس پر کتاب لکھ کر اس کے شبہ کا مدلل جواب دیا جائے۔ ۲۵ دسمبر ۱۹۹۳ امام الشافعی کا قول ہے کہ : من اراد الدنيا فعليه بالعلم ومن اراد الآخرة فعليه بالعلم (جو شخص دنیا چاہتا ہو اس کو علم حاصل کرنا چاہئے اور جو شخص آخرت چاہتا ہو اس کو بھی علم حاصل کرنا چاہئے)۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے لئے علم کی ضرورت ہے۔ مگر آخرت کے لئے علم کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اس دنیا میں ہر کامیابی کا تعلق شعور سے ہے شعور جتنا زیادہ پختہ ہوگا اتنی ہی زیادہ ترقی آدمی کو ملے گی۔ خواہ دنیا کی ترقی کا معاملہ ہو یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader