آغازِ کلام
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
آخرت کی ترقی کا معاملہ۔ بخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ (لا آکل مُتَّکِئاً) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹیک لگا کر کھانا اسلامی طریقہ کے خلاف ہے۔ لیکن اگر کوئی بیمار آدمی جس کو سیدھے بیٹھنا مشکل ہو وہ ٹیک لگا کر کھائے تو یہ خلاف سنت نہیں ہوگا۔ کیونکہ ایسے آدمی کا کیس اضطرار کا کیس بن گیا۔ اور مضطر کو ہر چیز میں رخصت دی گئی ہے۔ اسی اصول کو ایک شاعر نے اس طرح بیان کیا کہ ہر سخن موقع وہر نکتہ مکانے دارد۔ چھوٹے چھوٹے معاملات میں اس اصول کو ہر عالم جانتا ہے۔ مگر بڑے امور میں اس اصول کو کوئی عالم نہیں جانتا۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں ہر عالم مسلمانوں کو جہاد اور قتال کی آیت سنا رہا ہے ۔ حالانکہ آج مسلم امت جس حال میں ہے اس پر جہاد وقتال کا شرعی حکم منطبق ہی نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اپنی داخلی کمزوریوں کی بنیاد پر وہ اس پوزیشن میں ہی نہیں کہ جہاد و قتال کرسکے۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۳ تقویٰ کا تعلق بھی شعور سے ہے۔ شعور جتنا زیادہ بڑھا ہوا ہوگا، اتنا ہی زیادہ تقویٰ بھی آدمی کو حاصل ہوگا۔ مثال کے طور پر ایک آدمی کے پاس گھر نہیں۔ وہ اپنے آپ کو سماج میں بے جگہ پا رہا ہے۔ ایسا آدمی بہت دعا کرے گا۔ وہ خدا کے سامنے روئے گا۔ مگر جب اس کو گھر مل جائے تو وہ پنچنت ہو جاتا ہے۔ اب اس کا تقویٰ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ اس آدمی کے شعور کی کمی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میرے پاس گھر نہیں تو میں بے جگہ ہوں۔ گھر ہو جائے تو میں جگہ والا ہو جاؤں گا۔ مگر جس آدمی کا شعور بڑھا ہوا ہو اس کو اگر ساری زمین دے دی جائے تب بھی اس کا تقویٰ ختم نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اس کا شعور اس کو بتا رہا ہو گا کہ نہ زمین کی چیزیں خواہ میری تحویل میں ہوں مگر پھر بھی میرے لئے خوف کا مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ کیونکہ وسیع خلا میں گھومتی ہوئی زمین کو سنبھالنے رکھنے کے لئے تو پھر بھی مجھے خدا کی ضرورت ہے۔ زمین کا قیوم تو پھر بھی خدا ہی ہے۔ ایک لمحہ کے لئے بھی اگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader