Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا اپنی قومیت کو واپس لے لے تو اس کے بعد کوئی بھی چیز مجھ کو تباہی سے بچانے والی نہیں۔ بنگلور میں ایک سیمنار ہورہا ہے۔ اس کا دعوت نامہ میرے پاس آیا ہے۔ اس کا عنوان ہے کیا چیزیں ہندوستانی قومیت کی تشکیل کرتی ہیں؟ What constitutes Indian nationalism? کیسی عجیب بات ہے کہ ۱۹۴۷ سے آج تک یہی طے نہیں ہوا کہ ہندوستانی قومیت کے اجزا اور ترکیبی کیا ہیں۔ میرے نزدیک اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں لوگوں کا ذہن صاف نہیں ہے۔ اس معاملہ میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو جانا جائے۔ ہندوستانی سماج میں، دوسرے تمام سماجوں کی طرح، کچھ چیزیں مشترک ہیں اور کچھ چیزیں غیر مشترک۔ مثلاً ملک کا تحفظ ایک مشترک قدر ہے۔ اس کا احساس سب کے اندر یکساں طور پر ہونا چاہئے ۔ مگر لباس کی وضع مشترک چیز نہیں۔ اس میں ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہو سکتا ہے۔ آزادی کے بعد جو دستور ساز اسمبلی بنی اس میں ملک کے تمام اعلیٰ دماغ شامل تھے۔ مگر مجھے شبہ ہے کہ اس "فرق" کے معاملہ میں ان کا ذہن صاف نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جو دستور بنایا یا اس میں غیر ضروری طور پر کامن سول کوڈ کا آرٹیکل درج کر دیا۔ حالانکہ کسی سماج کا شادی بیاہ کا طریقہ غیر مشترک امور (Non-commons) سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ مشترک امور (Commons) سے۔ ۲۹ دسمبر ۱۹۹۳ تعرّف الاشیاء باضد ادھا (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں) کا اصول معاملات کی گہرائی کو سمجھنے کے لئے بہترین اصول ہے۔ مثال کے طور پر قدیم مکہ میں جب رسول اور اصحاب رسول کو ستایا جا رہا تھا، اس وقت بظاہر یہ حکم اترنا چاہئے تھا کہ یہ لوگ تمہارے اوپر ناحق ظلم کر رہے ہیں۔ تم ان کے ظلم کو ختم کرنے کے لئے ان کے خلاف جنگ کرو، خدا تمہارے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page