آغازِ کلام
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ہندو کو بھی اسی طرح نارمل انسان سمجھتا ہوں جس طرح کوئی دوسرا آدمی ۔ اگر آپ اپنے ذہن سے اس غلط مفروضہ کو نکال دیں کہ ہندو مسلم دشمن ہیں اور ان کو نارمل انسان کے روپ میں دیکھنے لگیں تو یہ شبہ اپنے آپ کے ذہن سے ختم ہو جائے ۔ میری زندگی کی آخری تمنا صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ہندوؤں کو ہدایت کی توفیق عطا فرمائے ۔ اگر ہندوؤں میں بڑے پیمانہ پر ہدایت پھیل جائے تو ایک طرف یہ ہوگا کہ وہ خدا کی رحمت کے مستحق ہو جائیں گے اور اعلیٰ زندگی میں داخل کئے جائیں گے ۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ دین حق کا حامل بننے کے لئے ایک زندہ قوم حاصل ہو جائے گی ۔ ہندو بلا شبہ ایک جاندار قوم ہیں ۔ ان کے اندر بہت Potential ہے۔ میرے خیال کے مطابق ، موجودہ دنیا کی تمام قوموں میں دین حق کی علمداری کے لئے سب سے زیادہ باصلاحیت قوم اگر کوئی ہے تو وہ صرف ہندو ہیں ۔ میں نے اکثر رورو کر ہندوؤں کی ہدایت کے لئے دعائیں کی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور میری دعاؤں کو قبول فرمائیں گے اور ہندوؤں کو وسیع پیمانہ پر ہدایت کی توفیق دی جائے گی ۔ یکم فروری ۱۹۹۳ لاہور کے روز نامہ وفاق (یکم فروری) کے صفحہ اول پر ایک سرخی ان الفاظ میں ہے : " بھارت میں مسلم کشی ـــــــــــ پوری دنیا کو حقائق سے آگاہ کریں گے " ۔ اس سرخی کے تحت اخبار میں بتایا گیا کہ موتمر عالمی اسلامی نے ایک مہم شروع کی ہے جس کے تحت تمام دنیا کے لوگوں کو بتایا جائے گا کہ بھارت کس طرح مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے ۔ یہ اعلان اسلام آباد میں موتمر عالمی اسلامی کے سیکریٹری جنرل راجہ ظفر الحق نے ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ اس کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ پاکستان کے مسلمان بھی کتنے ظالم ہیں ۔ پچھلے ۲۵ سال سے کبھی ان کے اندر یہ تڑپ پیدا نہیں ہوئی کہ دنیا کی تمام قوموں کو اسلام کی سچائی سے باخبر کریں ۔ اور بھارت کے مفروضہ مظالم سے دنیا کو باخبر کرنے کے لئے وہ بے قرار ہو رہے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader