Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

ان الفاظ میں عنوان بنایا گیا ہے : المسلمون دعاة محبة وسلام وكل ما يلاصق بهم من تهم هي من صنع اعدائهم ۔ (مسلمان محبت اور امن کے داعی ہیں اور جو الزامات ان پر لگائے جاتے ہیں وہ سب کے سب ان کے دشمنوں کے گھڑے ہوئے ہیں) شیخ کی یہ بات صحیح ہو تو وہ کلام اللہ کی تردید ہوگی۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو تو دشمن بھی تمہارا دوست بن جائے گا۔ اور یہاں یہ صورت حال ہے کہ، شیخ کے بقول ، امن اور محبت کا پیکر بننے کے باوجود ساری دنیا ان کی دشمن بنی ہوئی ہے۔ ان لوگوں کے کلام میں اس تضاد کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کا مترادف سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں جس آئیڈیل کی تعلیم دی گئی ہے اس پر عملاً سارے مسلمان قائم ہیں۔ وہ مسلمانوں کی تصویر کشی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرتے ہیں نہ کہ خود مسلمانوں کی واقعی زندگی کی روشنی میں۔ ۵ جنوری ۱۹۹۴ امریکہ میں ایک مسلمان مجھے اپنے گھر لے گئے۔ وہ سخت پریشان تھے۔ ان کا کاروبار ختم ہوگیا تھا۔ سودی قرضوں کی ادائیگی کا مسئلہ روہ روح بنا ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے عافیت اور خوش حالی کی دعا بتائیے۔ میں نے ایک دعا لکھ کر دے دی۔ بعد کو ان کے ایک سگے رشتہ دار سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا مسئلہ اس لئے بگڑا کہ امریکہ آنے کے بعد ابھی انھیں معاشی استحکام حاصل نہیں ہوا تھا کہ انھوں نے حج کا پروگرام بنالیا۔ اپنی والدہ کو پاکستان سے بلایا اور پھر دونوں یہاں سے حج کرنے کے لئے گئے۔ حج کا پورا خرچ انھوں نے سودی قرض کے ذریعہ حاصل کیا تھا۔ حج کے لئے جانے سے پہلے ان کا کام آگے بڑھ رہا تھا۔ مگر مذکورہ قسم کے حج نے ان کی معاشیات کو تباہ کر دیا۔ میں نے کہا کہ پھر تو ان کے لئے توبہ کا مسئلہ ہے نہ کہ دعا کا۔ انھیں سب سے پہلے اپنی غیر ذمہ دارانہ روش کو ختم کرنا چاہئے۔ محض دعا کے الفاظ دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ آدمی کے لئے سب سے زیادہ مشکل چیز اعتراف ہے۔ خاص طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page