آغازِ کلام
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ اعتراف جس میں اس کی اپنی ذات کی نفی ہو رہی ہو۔ کسی کو اس قسم کے اعتراف کا موقع مناسب سے بڑی نیکی کا موقع ملتا ہے ۔ کیوں کہ آدمی جب ایک ایسی حقیقت کا اعتراف کرتا ہے جس میں اس کی ذات کی نفی مور ہی ہو تو یہ نفی کسی اور کے مقابلہ میں نہیں ہوتی بلکہ خدا کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔ سچی حقیقت کا اعتراف خدا کا اعتراف ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنی نفی خدا کے مقابلہ میں اپنی نفی۔ اور بلا شبہ خدا کے مقابلہ میں اپنی ذات کی نفی کرنے سے زیادہ بڑا عمل اور کوئی نہیں ۔ ۷ جنوری ۱۹۹۳ دنیا میں سب سے زیادہ افراط کے ساتھ جو چیز پائی جاتی ہے وہ ناقص رائے ہے۔ اس کی مثال میرے نزدیک روزانہ آتی رہتی ہے۔ مثلاً ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسائل کا حل یہ ہے کہ ایک شخص ڈاکٹر بن کر بیٹھ جائے ۔ تاریخ میں تمام بڑے بڑے کام اسی طرح ہوتے ہیں۔ مثلاً خود پیمبر اسلام ایک شخص تھے ۔ انہوں نے اتنا بڑا انقلاب پیدا کر دیا۔ یہ سیرت کا ایک ناقص مطالعہ ہے۔ کیوں کہ پیمبر اسلام نے جو کچھ کیا وہ محض ایک فرد کی حیثیت سے نہیں کیا۔ آپ کے ساتھ لائق انسانوں کی ایک بہترین ٹیم تھی جس کی تعداد آخر زمانہ میں ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔ صحابہ کو حذف کر کے سیرت کا مطالعہ کرنا صرف ناقص مطالعہ ہے۔ وہ صحیح مطالعہ نہیں۔ ۸ جنوری ۱۹۹۳ میں ۲۲ دسمبر ۹۳ کو امریکہ کے لئے روانہ ہوا تھا۔ آج صبح وہاں سے واپس آیا ۔ امریکہ میں تقریباً پانچ ملین مسلمان آباد ہیں۔ اتنی ہی تعداد میں وہاں ہندو بھی بسے ہوئے ہیں۔ مگر وہاں کے ہندو ہر اعتبار سے مسلمانوں سے آگے ہیں۔ وہ زیادہ بڑا بزنس کرتے ہیں۔ ان کے اخبارات زیادہ اعلیٰ معیار کے نکلتے ہیں۔ ان کے مذہبی مراکز مسلمانوں سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں وہ مسلمانوں سے بہت زیادہ آگے ہیں۔ باہمی اتحاد بھی ان میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ تعصب اور فرقہ واریت کی وجہ سے یہاں ترقی نہیں کر سکتے۔ مگر امریکہ میں تو تعصب اور فرقہ واریت کا کوئی وجود نہیں۔ وہاں تو ہر ایک کو بالکل یکساں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader