Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 193

By Maulana Wahiduddin Khan

آزادی حاصل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان عام طور پر محنت نہیں کرتے، اسی لئے وہ ہر جگہ دوسروں سے پیچھے ہو گئے ہیں۔ صحیح مسلم کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جزیرہ عرب میں غزوہ کرو گے اور اللہ اس پر فتح دے گا۔ اور پھر تم فارس سے غزوہ کروگے اور اللہ اس پر فتح دے گا۔ پھر تم روم سے غزوہ کرو گے اور اللہ اس پر فتح دے گا۔ پھر تم دجال سے غزوہ کروگے اور اللہ اس پر فتح دے گا۔ (تغزون جزیرۃ العرب فیفتحها الله ثم فارس فيفتحها الله ثم تغزون الروم فيفتحها الله ثم تغزون الدجال فيفتحه الله) مشكاة المصابيح ۳/ ۱۳۹۳ اس حدیث کو اگر اس کے ظاہر مفہوم کے اعتبار سے لیا جائے تو اس میں صرف تین غزوات کو اسلام کی تصدیق حاصل ہے۔ ایک وہ جو زمانہ رسالت میں عرب میں کیا گیا تاکہ جزیرہ عرب کو شرک سے پاک کر دیا جائے۔ دوسرا وہ جو خلافت راشدہ کے زمانہ میں ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر سے کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ جبر کے نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ تیسرا وہ جو دور آخر میں فتنہ دجال کے ظہور کے بعد پیش آئے گا۔ گویا کہ روم دایران کی شہنشاہیت کے خاتمہ کے بعد پچھلے ہزار سال میں جو مختلف جنگیں کی گئیں وہ شرعی جنگیں نہ تھیں۔ وہ مسلمانوں کی قومی جنگیں تھیں۔ دور اول کے بعد اب صرف ایک ہی شرعی جنگ ہونا باقی ہے اور وہ دجال سے جنگ ہے۔ مزید یہ کہ ایک اور روایت کے مطابق دجال سے جنگ تلوار کے ذریعہ نہیں ہوگی بلکہ لا الہ الا اللہ کے ذریعہ ہوگی۔ گویا کہ یہ آخری جنگ بھی نظریہ کے میدان میں ہوگی نہ کہ ہتھیار کے میدان میں۔ (مشكاة المصابيح ۳/ ۱۳۹۴) ۱۰ جنوری ۱۹۹۳ ایک انقلابی جماعت کے جلسہ میں شریک ہوا۔ ایک نوجوان نے بڑے جوش وخروش سے ایک نظم پڑھی۔ اس کا ایک مصرع یہ تھا : میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ الفاط کے فتنہ کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں بے بنیاد بات کو بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page