Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

اتنے خوبصورت الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے کہ آدمی اس کو سن کر مسحور ہو جائے۔ جلسہ میں تمام لوگوں نے اس شعر ’’میری زندگی کا مقصد ترے دیں کی سرفرازی‘‘ کی خوب داد دی. حالاں کہ عملی انطباق کے اعتبار سے نوجوانوں کو یہ کہنا چاہئے کہ میری زندگی کا مقصد ہے ترے دیں کی سرفرازی کے نام پر اپنی سرفرازی کا لایعنی ہنگامہ کھڑا کرنا۔ ۱۱ جنوری ۱۹۹۳ قرآن میں یہود کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ وہ ظالموں کا تذکرہ کر کے ان سے لڑنے کی باتیں کرتے تھے۔ مگر جب انھیں ان ظالموں سے بالفعل لڑنے کا حکم دیا گیا تو چند ایک کو چھوڑ کر کوئی بھی لڑنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ (البقرہ ۲.۴۶ ) آجکل مسلمانوں کا حال یہی ہورہا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کی تحریروں کو پڑھیے یا ان کی باتوں کو سنیئے تو ہر جگہ ظالموں کا تذکرہ ہوگا اور ان سے ٹکرائو کی باتیں کی جارہی ہوں گی۔ مگر عملی طور پر ظالموں سے لڑنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں ہر مسلمان‘‘ بابری مسجد دوبارہ وہیں بناؤ‘‘ کی بولی بول رہا ہے۔ لیکن اگر ان سے کہئے کہ ہندو لاکھوں کی تعداد میں اجودھیا گھس گئے اور انھوں نے بابری مسجد کو توڑ کر وہاں عارضی مندر بنا دیا تم بھی لاکھوں کی تعداد میں اجودھیا میں داخل ہو جائو اور مندر کو توڑ کر وہیں دوبارہ بابری مسجد تعمیر کر دو۔ ایسی کال دی جائے تو عوام و خواص میں سے کوئی بھی اس کے لئے اپنے گھروں سے نکلنے والا نہیں۔ حدیث میں ہے کہ یہود اگر کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں تو تم بھی وہیں گھسو گے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ جو کچھ انھوں نے کیا وہی سب تم بھی کرو گے۔ مذکورہ معاملہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ ۱۲ جنوری ۱۹۹۳ آرمی ٹریننگ میں زیر تربیت فوجیوجو کو جو باتیں بتائی جاتی ہیں ان میں سے ایک بات یہ ہوتی ہے کہ لڑائی میں آپ کو یہ نہیں بھولنا ہے کہ آپ کا مقصد مر جانا نہیں ہے بلکہ آئندہ کے لئے بھی زندہ رہنا ہے۔ ہر فوجی لڑائی کے پہلے ہی دن اپنے کو ہلاک کر لیتا ہے۔ مگر اچھا فوجی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page