Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

اگلے دن لڑنے کے لئے اپنے آپ کو زندہ رکھتا ہے: A bad soldier dies on the first day; a good soldier lives to fight for the second day. موجودہ زمانہ کے نام نہاد مجاہدین اس حقیقت سے آخری حد تک بے خبر ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو بس لڑ کر مر جانے سے دلچسپی ہے۔ انھیں اس کا شعور نہیں کہ اصل کام لڑائی کو کامیابی کے مرحلہ تک پہنچانا ہے نہ کہ لڑ بھڑ کر اپنا خاتمہ کر لینا۔ ۱۳ جنوری ۱۹۹۴ حدیث میں ہے کہ خیر الامور اوسطھا (معاملات میں سب سے بہتر اس کا بیچ ہے) سادہ طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہا پسندی کے بجائے اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کرنا۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کی تردید ہے۔ بیشتر لوگوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ صرف دو انتہائی موقف کو سمجھ پاتے ہیں۔ مثلاً ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ نزاعی معاملہ میں یا تو لڑا جاتا ہے یا بزدل بن کر چپ بیٹھنا۔ حالانکہ وہاں ایک درمیانی موقف بھی ہوتا ہے۔ اور وہ ہے ٹکراؤ سے اعراض کرتے ہوئے اپنے داخلی استحکام کی تدبیر کرنا۔ آجکل جو مسلمان میری مخالفت کرتے ہیں وہ زیادہ تر اسی بنیاد پر کرتے ہیں۔ غیر مسلموں سے میں نزاعی امور میں صبر و اعراض کی بات کرتا ہوں۔ یہ صبر و اعراض در اصل مذکورہ معنوں میں ’درمیانی موقف‘ کے لئے ہوتا ہے۔ مگر وہ چوں کہ درمیانی موقف کو نہیں جانتے اس لئے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ میں بزدلانہ پسپائی کی بات کرتا ہوں۔ اپنے ثنائی طرز فکر کی بنا پر وہ کسی تیسرے موقف کو سمجھنے سے قاصر ہو گئے ہیں۔ ۱۴ جنوری ۱۹۹۴ اکتوبر ۱۹۹۳ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور آل انڈیا ملی کونسل کے لوگوں کا اجتماع جے پور میں ہوا۔ وہاں انھوں نے یہ تجویز پاس کی کہ پورے ملک میں اسلامی عدالت کا نظام قائم کیا جائے۔ تاکہ مسلمان اپنے مقدمات کے لئے اس سے رجوع کریں اور اس کے ذریعہ ان لوگوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page