Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

نے دہلی میں پریس کانفرنس کرکے اس کا اعلان کیا۔ یہ اعلان انگریزی اخبارات میں اس طرح چھپا کہ مسلم لیڈروں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں اسلامک کورٹ کا متوازی نظام قائم کریں۔ اس کے بعد اخباروں میں اس کے خلاف کافی خطوط اور مضامین اور تبصرے شائع ہوئے۔ جامعہ ہمدرد کے دو استاد ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے بتایا کہ اس اخباری بحث کے دوران دہلی کے کچھ اردو اخبار کے نمائندے مذکورہ کونسل کے لیڈر صاحب سے ملے۔ اور ان سے کہا کہ ہندوستان میں پہلے سے مسلمانوں کے نزاعات کو حل کرنے کے لئے دار الافتاء اور دار القضا ہر جگہ کھلے ہوئے ہیں۔ پھر آپ نے اسلامی عدالت قائم کرنے کا اعلان کیوں کیا۔ لیڈر صاحب نے جواب دیا: ہم نے دشمن کے خیمہ میں ایک ڈھیلا پھینکا جو ٹھیک نشانہ پر جاکر لگا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والے مسلم لیڈر کتنے سطحی تھے۔ اپنی اسی سطحیّت کی وجہ سے انھوں نے مسلمانوں کے معاملات کو صرف بگاڑا ، وہ کسی بھی معاملہ کو بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ ۱۵ جنوری ۱۹۹۳ کشمیر کے مسئلہ میں میرا نقطہ نظر وہاں کے جنگجو مسلمانوں کو پسند نہیں۔ چنانچہ انھوں نے میرے قتل کی دھمکی شائع کردی۔ اس کے بعد حکومت ہند کے محکمہ داخلہ نے میری رہائش گاہ پر سیکورٹی لگادی ہے۔ ایک پولیس افسر سے میں نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے یہ سپاہی جنگجوؤں کے مقابلہ میں میری حفاظت کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیکورٹی اگر محافظ بن سکتی تو اس ملک میں اندر اگاندھی اور راجیو گاندھی کا قتل نہ ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ اس قسم کی سیکورٹی ایک مانع طاقت (deterrent force) کا کام کرتی ہے۔ یہ بات مجھے ٹھیک معلوم ہوتی ہے، اور یہ وہی بات ہے جس کو قرآن میں قوت مرہبہ (الأنفال ٦٠) کہا گیا ہے۔ مسٹر ارن شرما (۴۷ سال)، ایک انگلش جرنلسٹ ہیں۔ وہ ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ اجودھیا کے مسئلہ کے بارہ میں آپ کے فارمولا پر میری بات مسٹر دوا (اڈیٹر ہندوستان ٹائمس)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page