Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ہوئی ۔ وہ تعصب کی حد تک آپ کے فارمولے کے حامی ہیں ۔ مگر میرا کہنا ہے کہ آپ کے فارمولے میں ایک بہت بڑی کمزوری ہے ۔ آپ کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں شریک ہندو لیڈر یہ ڈیکلریشن جاری کریں کہ بابری مسجد کے بعد اب وہ کاشی ، متھرا یا کسی اور مسجد کا سوال نہیں اٹھائیں گے ۔ اگر موجودہ ہندو لیڈر اس قسم کے اعلان پر دستخط کر دیں تب بھی اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آئندہ اٹھنے والے ہندو کہہ دیں کہ ہم اس اعلان کے پابند نہیں ہیں ۔ اور اس کے بعد وہ دوسری مسجدوں کا چیپٹر کھول دیں ۔ میں نے کہا کہ میرا اصل اعتماد خود ڈیکلریشن کے الفاظ پر نہیں ہے ۔ بلکہ ڈیکلریشن کے بعد پیدا ہونے والی فضا پر رہے ۔ اگر ایک بار ایسا ڈیکلریشن جاری ہو جائے تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ ہندو مسلم تناؤ ختم ہو کر دونوں کے درمیان نارمل حالت قائم ہو جائے گی ۔ یہی نارمل حالت میرے نزدیک سب سے بڑا چیک ہے ۔ کیوں کہ بابری مسجد کو مسٹر ہندو نے نہیں توڑا بابری مسجد کو مسٹر آئیگونے توڑا ۔ کچھ نااہل مسلم لیڈروں نے بھڑکاؤ کی سیاست چلا کر ہندو کے نظری ذہن کو ڈسٹرب کر دیا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندو کو دوبارہ اس کے فطری ذہن کی طرف لوٹا دیں۔ آپ صرف اتنا کیجئے کہ ہندو کو اس کی نارمل حالت پر پہنچا دیجئے اس کے بعد مسجد توڑنے کا سلسلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا ، آتایہ کہ کوئی نادان مسلم لیڈر دوبارہ ہندو کو بھڑکا کر پھر اس کو نارمل حالت سے ہٹا دے ۔ ۷ جنوری ۱۹۹۲ پاکستانی تحریک کے زمانہ میں اگست ۱۹۱۷ میں مسٹر محمد علی جناح نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد) کے طلبہ کے سامنے تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کا مطالبہ ہم اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ہم اسلام کی بنیاد پر ایک حکومتی نظام قائم کر سکیں ۔ اسلامی حکومت قرآن کا ایک حکم ہے ۔ اس قسم کی ایک حکومت قائم کرنے کے لئے علیحدہ ملک لازمی طور پر ضروری ہے : Islamic government is the rule of the Quranic injunctions and principles. For the establishment of such government a separate country or a state is a must. Speeches and Writings of Mr. Jinnah, p.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page