آغازِ کلام
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان کے تصور کے بارے میں ٹھیک یہی ذہن تھا اقبال، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور بہت سے دوسرے لوگوں کا تھا۔ حالاں کہ یہ سراسر بے بنیاد تصور ہے۔ اسلامی حکومت اس طرح نہیں بنتی کہ غیر مسلموں سے لڑ کر ایک زمینی ٹکڑا حاصل کیا جائے اور وہاں اسلامی قانون کا نظام قائم کر دیا جائے۔ اسلامی حکومت افراد سازی کے ذریعہ بنتی ہے نہ کہ ملک سازی کے ذریعہ۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان میں یہ تجربہ آخری حد تک ناکام ہو چکا ، اس کے باوجود کشمیر، افغانستان، البونیا اراکان، فلپائن اور دوسرے بہت سے مقامات پر اسی ناکام سیاست کو دہرایا جا رہا ہے۔ ۱۸ جنوری ۱۹۹۳ امریکہ کے سفر میں میری ملاقات مولانا سید سلیمان ندوی کے صاحبزادہ ڈاکٹر سلمان ندوی سے ہوئی۔ وہ اپنے والد کے ساتھ انڈیا سے پاکستان چلے گئے تھے۔ وہاں سے ڈر بن (ساؤتھ افریقہ) گئے جہاں ایک یونیورسٹی میں وہ اسلامیات کے استاد ہیں۔ ڈاکٹر سلمان ندوی نے گفتگو کے دوران بتایا کہ پاکستان میں میں نے والد صاحب سے پوچھا کہ تحریک آزادی کے زمانہ میں مولانا حسین احمد مدنی کانگریس پارٹی کے حامی تھے۔ اور مولانا اشرف علی تھانوی مسلم لیگ کی حمایت کرتے تھے۔ اس معاملہ میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے۔ ڈاکٹر سلمان ندوی کے بیان کے مطابق، سید صاحب نے جواب دیا، دماغ کانگریس کے ساتھ ہے مگر دل مسلم لیگ کے ساتھ۔ مولانا سید سلیمان ندوی ہندوستان کے اکابر علماء میں شمار کئے جاتے ہیں۔ جب اتنے بڑے بڑے لوگوں کا حال یہ ہو کہ ان کے افکار میں انٹیگریشن نہ پایا جائے تو ایسے افراد سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ نازک معاملات میں قوم کی رہنمائی کریں گے۔ ۱۹ جنوری ۱۹۹۳ قوموں کی نظر میں پاسبانی اتنی زیادہ اہم ہے کہ ان کا کوئی فرد اگر بے فائدہ طور پر اپنی جان دے دے تب بھی وہ لوگوں کی نظر میں ہیرو بن جاتا ہے۔ یہ ہر قوم کا حال ہے اور ملانوں میں مزید اضافہ کے ساتھ یہ رجحان موجود ہے۔ حالاں کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader