Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

امام حسین کا لڑنا مر جانا اسلام کی تعلیم سے مطابقت نہ رکھتا تھا کیوں کہ احادیث میں مسلم حکمران سے جنگ کو مطلق طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ مگر امام حسین کی شہادت نے لوگوں کی نظر میں ان کو صحابہ سے بھی زیادہ بڑا درجہ دے دیا۔ امام احمد بن حنبل کے زمانہ میں معتزلہ نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے۔ امام موصوف نے اس کے مقابلہ میں یہ موقف اختیار کیا کہ قرآن غیر مخلوق ہے اس پر انہیں حکومت وقت کی طرف سے غیر معمولی زیادتیوں کا شکار بنایا گیا۔ میرے نزدیک دونوں ہی موقف یکساں طور پر بے اصل تھے ۔ صحیح بات یہ تھی کہ یہ کہا جاتا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور بس۔ مگر امام احمد بن حنبل کی قربانیوں نے انہیں عظیم ترین ہیرو بنا دیا۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں سید احمد بریلوی اور سید قطب جیسے افراد بہت سے لوگوں کی نظر میں ابطال اسلام کا درجہ پائے ہوئے ہیں۔ صرف اس لئے کہ انھوں نے اسلام کے نام پر اپنی جان دے دی ہے۔ حالاں کہ سید احمد بریلوی کی سکھ راجہ سے لڑائی یا سید قطب کا مصری حکمرانوں سے ٹکراؤ ، دونوں ہی اسلامی نقطہ نظر سے بے بنیاد تھا۔ ۲۰ جنوری ۱۹۹۳ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اسلام کے نام پر دھواں دھار سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان سرگرمیوں کو جب میں قرآن وسنت کے معیار پر جانچتا ہوں تو وہ مجھے بالکل بے اصل نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک کے پاس اپنے حق میں شاندار دلائل موجود ہیں اور وہ مسلمانوں کے درمیان اسلام کے چیمپئن کا درجہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے قیمتی جنتیں سجائی گئی ہیں تو کم از کم میری فہم کے مطابق ، خدا نے دو مختلف دین انسانوں کو دئے ہیں۔ ایک وہ جو پیغمبر کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔ دوسرا وہ جو پیغمبر کے بعد کچھ اور افراد کے اوپر خواب، مکاشفہ، خود ساختہ تعبیرات ، حتیٰ کہ ابلیس کی مجلس شوریٰ کے ذریعہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پیغمبر نے اسلام کی بابت فرمایا تھا کہ لیلھا كنهارھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں تعبیرات کی کثرت نے اس کو نھارھا کلیدھا کے ہم معنی بنا دیا ہے۔ اگر میں غلطی پر ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔ مگر جہاں تک انسانی سوچ کا تعلق ہے تو میری سوچ مجھ کو یہیں پہنچاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page