آغازِ کلام
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
ے کہا کہ مسلمانوں کی دینی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔ جو لوگ نماز پڑھتے ہیں وہ بھی اخلاقی اعتبار سے عام لوگوں سے مختلف نہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرٹھ کے سنجیدہ لوگوں نے بتایا کہ میرٹھ کا فساد ) خود مسلمانوں کی چھیڑ چھاڑ سے شروع ہوا۔ مسلمانوں نے میرٹھ شہر میں کچھ پولیس والوں کو مارا۔ میرٹھ شہر میں چونکہ مسلمان طاقت ور تھے، یہاں زیادہ واقعات نہیں ہوئے۔ البتہ پولیس والوں نے اس کا بدلہ قریب کی آبادی ملیانہ میں لیا۔ وہاں انھوں نے بھرپور طور پر انتقامی کارروائی کی۔ اگر مسلمانوں نے میرٹھ شہر میں پولیس کو مارا نہ ہوتا تو ملیانہ کا فساد بھی نہ ہوتا۔ ۲۲ جنوری ۱۹۹۳ مولانامحمد صدیق قاسمی ( بھوپال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ دسمبر ۱۹۹۲ بھوپال میں جو فساد ہوا وہ خود مسلمانوں کی حمایت کا نتیجہ تھا۔ ۶ دسمبر ۹۲ کو بابری مسجد ڈھانے کے بعد مسلمانوں نے بھوپال میں جلوس نکالا۔ انھوں نے ہندو دکانوں پر پتھراؤ کیا۔ ہندوؤں کی گاڑیاں جلا دیں۔ اس کے بعد ہندوؤں نے جوابی فساد شروع کیا تو مسلمانوں کی کمر توڑ دی۔ انھوں نے بتایا کہ میرے بھائی کا دس لاکھ روپیہ کا سامان جلا دیا گیا۔ ابھی تک وہ دوبارہ سنبھل نہیں سکے ہیں۔ میں نے کہا کہ ۶ دسمبر کے بعد ہندو فتح کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ اس وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت تھی۔ ایسے نازک موقع پر جلوس نکالنا اور چھیڑ چھاڑ کرنا سراسر غلط تھا۔ حدیث ہے کہ ان الفتنة نائشة لعن الله من ایقظھا ۔ ۶ دسمبر کے بعد تو یہ فتنہ ہندوؤں میں سوئی ہوئی حالت میں نہیں بلکہ جاگی ہوئی حالت میں تھا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں نے مبئی، سورت بھوپال وغیرہ میں جلوس اور پتھر او کے جو واقعات کئے وہ ایک اناطنہ سے بھی زیادہ بڑی غلطی تھی ۔ یہ دنیا عالم اسباب ہے۔ یہاں یہ ممکن نہیں کہ غلطی کوئی شخص کرے اور اس کی قیمت کوئی دوسرا شخص ادا کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader