Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

ریاض کے عربی ماہنامہ الفیصل (فروری ۱۹۹۳) میں ایک مضمون الصحوة الاسلامیہ کے بارہ میں چھپا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں ایک کتاب (الاسلام فی امریکا) چھپی ہے۔ مصنف نے اسلام کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ایک قدیم مذہب ہے۔ امریکی سماج میں نیا مقام حاصل کرنے کی تلاش میں ہے۔ (دین قدیم يبحث عن مكان جديد فی المجتمع الامريكي) صفحہ ۹۶ موجودہ زمانہ میں مسلمان جگہ جگہ اسلام کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں۔ مگر عملاً وہ بہت کم مؤثر ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت کا کام صبر و اعراض کے ساتھ ہوتا ہے مسلمان ایک طرف اسلام کی اشاعت کا کام کرنا چاہتے ہیں، دوسری طرف جھگڑے کی سیاست چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ اور دونوں کام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ۳ فروری ۱۹۹۳ محمد عبدالعظیم فروٹ مرچنٹ (رائچور) نے حیدر آباد کے اخبار رہنمائے دکن (۹ فروری ۱۹۹۳) کا ایک تراشہ بھیجا ہے۔ اس میں مولانا محمد حمید الدین عاقل حسامی کی تقریر چھپی ہے۔ تقریر کا بیشتر حصہ میرے خلاف ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا: "مولانا وحید الدین خاں دہلی میں جمعیتہ علماء ہند کی عمارت کے ایک حصہ پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ اور باوجود متعدد اپیلوں کے اسے خالی نہیں کرتے۔" یہ سراسر جھوٹا الزام ہے۔ میں جمعیۃ بلڈنگ کے دو کمروں کا کرایہ دار ہوں نہ کہ قابض۔ الجمعیۃ سے تعلق کے زمانہ میں یہ کمرے میرے پاس تھے۔ ۱۹۷۴ء میں جب ان لوگوں نے الجمعیتہ کو بند کیا تو خود ان کے اپنے حساب کے مطابق، ان کے ذمہ میری رقم باقی تھی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ میری رقم مجھے دیدیں تو میں کمرہ خالی کر دوں گا۔ مگر دو سال گزر گئے اور انھوں نے میری رقم مجھے نہ دی۔ اس کے بعد حاجی عبدالعزیز صاحب میرٹھ والے جمعیۃ ٹرسٹ سوسائٹی کے چیرمین مقرر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page