آغازِ کلام
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ میں تعلیم کی صرف ایک صورت تھی۔ طالب علم اپنے استاد کے سامنے بیٹھ کر سنے۔ موجودہ زمانہ میں مواصلات کے نئے ذرائع نے سامنے موجودگی کو اضافی بنا دیا۔ اس سے اوپن یونیورسٹی کا تصور پیدا ہوا۔ اس نئے تصور کے تحت خط و کتابت، لٹریچر، ریڈیو ٹی وی، آڈیو اور ویڈیو کیسٹ کے ذریعہ وسیع پیمانے پر تعلیم دی جاتی ہے۔ اس ترقی نے ایک نئی اصطلاح پیدا کی ہے جس کو دوری سے تعلیم (distance education) کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ دعوت کا بھی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا کہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں اسلام کا کلمہ داخل ہو جائے گا۔ یہ عمومی ادخال کلمہ اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ نئے ذرائع اعلام دریافت ہوں جو دور سے پیغام رسانی کو ممکن بنا دیں۔ ۲۳ جنوری ۱۹۹۲ فقہانے چار چیزوں کو اسلامی احکام کا مآخذ قرار دیا ہے ۔ قرآن، سنت اجماع ، قیاس۔ میں سمجھتا ہوں کہ چار کی تقسیم غیر ضروری ہے۔ اصل مآخذ صرف دو ہیں نص اور قیاس۔ نص شرعی میں قرآن اور سنت نابتہ شامل ہیں۔ قیاس اگر عمومی اتفاق رائے کی بنیاد پر ہو تو وہ اجماع امت کہا جائے گا، ورنہ صرف قیاس۔ یہ ایک فطری تقسیم ہے جو ہر جگہ اور ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ ۲۵ جنوری ۱۹۹۲ تین سال پہلے امریکہ کے سفر میں میری تفصیلی ملاقات ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی ۔ وہ الرسالہ مشن سے کافی متاثر تھے۔ انھوں نے طے کیا تھا کہ وہ امریکہ میں الرسالہ مشن کو پھیلانے کا کام کریں گے۔ چنانچہ وہ ماہنامہ الرسالہ بڑی تعداد میں منگوا کر پھیلانے لگے۔ انھوں نے جمعہ کے دن الرسالہ کی مطبوعات کا اسٹال لگانا شروع کیا، وغیرہ۔ مگر تین سال بعد حال میں جب میں امریکہ گیا میں نے پایا کہ ان میں فرق آچکا ہے۔ فکری طور پر اگر چہ اب بھی وہ الرسالہ مشن سے متفق تھے ۔ مگر عملاً وہ اس کو تقریباً چھوڑ چکے ہیں۔ آجکل وہ ایک اسلامک سنٹر کے چیئرمین ہیں۔ وہ اس سلسلہ میں مجھ کو کافی سرگرم نظر آئے۔ ایک گفتگو کے دوران انھوں نے کہا: اب میں نے لیڈر شپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader