آغازِ کلام
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
کارول لے لیا ہے۔ اس تجربے میں نے جانا کہ کیا وجہ ہے کہ بہت سے لوگ الرسالمشن سے پورا اتفاق کرتے ہیں۔ مگر عملاً وہ الرسالمشن میں زیادہ متحرک نہیں ہوتے۔ البتہ اگر انہیں کسی اسلامی ادارہ کی صدارت جیسا عہدہ مل جائے تو وہاں وہ خوب سرگرم عمل ہو جاتے۔ اس فرق کی وجہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ ــــــ الرسالمشن میں خدمت کا رول ہے اور تسلیم شدہ قومی اداروں میں لیڈرشپ کا رول۔ ۲۶ جنوری ۱۹۹۲ دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ ۲۱ جنوری ۱۹۹۲ میں ایک نیوز آئٹم ہندستانیوں کا قبولِ اسلام (Indians convert) کے عنوان سے چھپا ہے۔ - ایتھنرز کی ڈیٹ لائن کے ساتھ چھپنے والی اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چھ مہینوں میں سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں میں سے ایک ہزار ایک سو بیالیس لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان میں سے ۱۹۷ ہندستانی ہیں: A total of 1,142 expatriates including 197 Indians in Saudi Arabia have embraced Islam, within a period of six months. (p. 10) یہ صرف سعودیہ کی بات نہیں، ہر عرب ملک میں اسی طرح انڈیا کے ہندو برابر اسلام قبول کرتے رہتے ہیں۔ میں نے اپنے بعض بیرونی سفروں کے درمیان اس معاملہ کی تحقیق کی ۔ معلوم ہو کہ اس کی اصل وجہ آزادانہ ڈائیلاگ ہے۔ عرب ملکوں میں ہند ومسلم تعلقات میں وہ تناؤ اور پیچیدگی نہیں ہے جو انڈیا یا میں دونوں فرقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس لئے وہاں فطری ماحول میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ڈائیلاگ جاری رہتا ہے۔ اس کے برعکس انڈیا میں دو قومی سیاست اور فرقہ وارانہ نزاعات نے دونوں فرقوں کے درمیان معتدل فضا باقی نہیں رکھی ہے۔ اس لیے یہاں دونوں کے درمیان نہ معتدل فضا میں ملاقات ہوتی نہ بات چیت۔ ہندوستان کے مسلمان اگر شکایت اور اشتعال والی باتوں میں یکطرفہ صبر کی پالیسی اختیار کر لیں تو انڈیا میں بھی دونوں فرقوں کے درمیان نارمل تعلقات قائم ہو جائیں گے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader