Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے فطری نتیجہ کے طور پر دونوں کے درمیان آزادانہ ڈائیلاگ بھی شروع ہو جائے گا۔ اس کے بعد یقینی طور پر انڈیا میں بھی وہی دعوتی عمل جاری ہو جائے گا جو عرب ملکوں میں آج بھی جاری ہے۔ انڈیا کے مسلمانوں کو اللہ کے لئے جو اصل قربانی دینا ہے وہ یہی صبر کی قربانی ہے۔ لڑنے مرنے کی قربانی چودہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے دے رہے ہیں، وہ اللہ کو مطلوب نہیں۔ مسلمان بطور خود اس کو قربانی کا نام دیتے ہوئے ہیں۔ مگر میرے فہم دین کے مطابق وہ نہ شہادت ہے اور نہ قربانی۔ ۲۷ جنوری ۱۹۹۳ خواب میں دیکھا کہ کوئی مقرر قسم کا آدمی اسلام کے موضوع پر بول رہا ہے۔ اس دوران اس نے کہا ــ مدنی دور نام ہے جہاد بالسيف کا ، بدر وحنین کا معرکہ گرم کرنے کا۔ مجھے یہ سن کر غصہ آگیا۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ تم نے جھوٹ کہا۔ مدنی دور نام ہے قرآت اور تبلیغ کا ، ٹکراؤ سے ہٹ کر ہجرت کر جانے کا ، تعمیر مسجد اور اقامت صلاۃ کا، صبر اور داخلی استحکام کا، قرآن کی کتابت و حفاظت کا، تعلیم اور تدریس کا، یکطرفہ طور پر صلح کر لینے کا، توں کو دعوتی مکتوبات بھیجنے کا، اخوت و مواسات کا، دشمنوں کو معاف کر دینے کا، مجبورانہ دفاع کے سوا ہر حال میں جنگ سے اعراض کرنے کا، کردار سازی اور تعمیر سیرت کا، اپنی کمائی کو صرف اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے مصالح دین پر خرچ کرنے کا۔ جس دور کو مدنی دور کہا جاتا ہے اس دور میں یہ سب کام بہت بڑے پیمانے پر کئے گئے۔ اس کے باوجود کہنے والے مذکورہ قسم کی باتیں کیوں کہتے ہیں، اس کا سبب غلط تفکیر ہے۔ یعنی وہی چیز جس کو وضع الشی فی غیر موضعه کہا گیا ہے، لوگوں نے یہ کیا کہ وقتی معاملہ کو ابدی معاملہ سمجھ لیا، استثنائی حکم کو عمومی حکم قرار دیدیا، جزئی پہلو کو کلی پہلو بنا لیا۔ جو بات اضافی تھی اس کو حقیقی کا درجہ دے دیا۔ عرب کے ایک مسلم ادیب نے لکھا ہے کہ امت اسلامی کی صفت کہلاپن ہے، دوسری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page