آغازِ کلام
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
منغلقة) میں سمجھتا ہوں کہ بات یوں نہیں ہے کہ کھلا پن (openness) صرف امت مسلمہ کی صفت ہے اور دوسری قوموں کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کھلا پن در اصل زندہ قوم کی صفت ہے۔ قوم میں زندگی ہو تو اس کے اندر کھلا پن ہوگا، اور جب قوم طول امد کے نتیجہ میں مردہ ہو جائے تو اس میں کھلا پن کا ماحول بھی باقی نہیں رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں معاملہ بالکل برعکس ہو گیا ہے۔ آج مسلمانوں کا معاشرہ کھلے پن سے محروم ہے۔ اس کے برعکس مغربی قوموں میں عام طور پر کھلا پن پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمان اس وقت اپنے دور زوال کو پہنچ گئے ہیں۔ جبکہ مغربی قومیں اپنے عروج کی حالت میں ہیں۔ کسی معاشرہ میں کھلا پن صرف اس وقت آتا ہے جب کہ اس میں تنقید کو برداشت کرنے کی طاقت ہو۔ اس اعتبار سے تنقید ایک قطعی معیار ہے جس کے اوپر کسی معاشرہ کو جانچا جا سکتا ہے۔ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے اندر تنقید کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔ جبکہ مغربی معاشرہ میں تنقید کا استقبال کیا جاتا ہے۔ یہی ظاہرہ بتاتا ہے کہ آج کس معاشرہ میں کھلا پن ہے اور کس معاشرہ میں کھلا پن نہیں۔ ۲۹ جنوری ۱۹۹۳ ڈاکٹر عماد الدین خلیل (مصری) کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے اعادة تشکیل العقل المسلم۔ آجکل اس قسم کی تحریریں عرب دنیا میں بہت شائع ہو رہی ہیں۔ مگر مجھے شبہ ہے کہ ان لکھنے والوں پر یہ امر واضح نہیں کہ عقل مسلم ہے کیا۔ جہاں تک میرا خیال ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مسلم عقل در اصل سائنٹفک عقل کا دوسرا نام ہے۔ سائنٹفک عقل سے میری مراد اہل مغرب کی عقل نہیں ہے بلکہ سچے فطرت شناس کی عقل ہے۔ سائنٹفک تھنکنگ اگر فی الواقع کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو لازماً وہ اس کو خدا کی معرفت تک لے جائے گی۔ سائنسی سوچ، مطابق واقعہ سوچ کا دوسرا نام ہے۔ اور مطابق واقعہ سوچ ہی سے وہ چیز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader