Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

پیدا ہوتی ہے جس کو خدا شناسی کہا جاتا ہے۔ کشمیر کے منگچوؤں نے ۱۹۸۹ میں سرینگر کی دوسری عمارتوں میں بم مار کر اپنی پرتشدد تحریک کا آغاز کیا۔ اس سے پہلے میں بار بار کشمیر گیا ہوں۔ اس سے پہلے وادی کشمیر میں مکمل امن تھا۔ ہندوستانی فوجیں اپنے محدود دائرہ میں رہتی تھیں۔ وہ آبادیوں میں کسی قسم کا ظلم یا تشدد نہیں کرتی تھیں۔ پاکستان کے فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کے زمانہ اقتدار میں ۱۹۸۰ء میں اسلام آباد میں ”کشمیر آزادی سیل“ قائم کیا گیا۔ یہ سیل پاکستان کے انٹر سروسز انٹیلی جنس 1.5.1 کے ماتحت ہے۔ پہلے سالوں میں اس نے اس مد میں کروڑوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ کشمیر آزادی سیل عملاً کشمیر میں بلا اعلان جنگ چھیڑنے کے ہم معنی تھا۔ وہ اس لئے قائم کیا گیا تاکہ کشمیر کے نوجوانوں کو ہتھیار دے کر وہاں تخریب کرائی جائے اور اس طرح ہندوؤں کو پریشان کیا جائے۔ پاکستان کے نام نہاد اسلامی حکمرانوں کو یہ توفیق تو نہیں ہوئی کہ وہ اپنے یہاں دعوہ سیل قائم کریں اور اپنے پڑوسی ہندوؤں تک خدا کے دین رحمت کا پیغام پہنچائیں۔ البتہ وہ اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کے خلاف نفرت اور تشدد کا طوفان برپا کرنے کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں۔ دین کا جو فہم مجھے قرآن وسنت کے مطالعہ سے حاصل ہوا ہے، اس کی روشنی میں میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس قسم کی سرگرمیاں صرف خدا کے غضب کو دعوت دینے والی ہیں، اس قسم کی منفی سرگرمی پر کسی کو خدا کا انعام ملنے والا نہیں۔ ۳۱ جنوری ۱۹۹۳ ۳۰ - ۳۱ جنوری کو میں بنگلور میں تھا۔ وہاں عبد اللہ بری صاحب الرسالہ مشن کے لئے بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک صاحب کے مالی تعاون سے وہ یہاں ”الرسالہ اکیڈمی“ کے لئے ایک کمرہ کرایہ پر لئے ہوئے تھے۔ کسی اسلام پسند نے ان کو بہکایا اور انھوں نے اپنا مالی تعاون روک لیا۔ اس کے بعد سات مہینہ کا کرایہ باقی ہو گیا۔ آخر کار انھیں وہ کمرہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page